بی ایل اے نے ایک اور فدائی جوڑے کی تفصیلات جاری کردیں

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے ) کے میڈیاادارے ” ہکل” نے آپریشن ’ہیروف فیز ٹو‘ میں شامل ایک اور خاتون فدائی کی تصویر اور تفصیلات جاری کردی ہیں جو اپنے فدائی شوہرکے شہادت کے بعدبھی اپنے فدائی فلسفے پر قائم رہے ، اس کے عزم میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہوئی اور آپریشن ہیروف فیز ٹو میں نوشکی میں پاکستانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹرز کے اندر قریبی جھڑپوں میں لڑائی کے دوران شہید ہوئے۔

میڈیا ادارے ہکل کے مطابق فدائی مریم بزدار، عرف سمی ولد دین محمد بزدار، سکنہ آلہ آباد کالونی، ڈیرہ غازی خان نے 3 مارچ 2023 مجید بریگیڈ میں شمولیت کی ۔

تنظیم کے مطابق فدائی مریم بزدار نے بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت کسی وقتی جذبے کے تحت نہیں بلکہ واضح شعور، ذمہ داری کے احساس اور فکری وابستگی کے ساتھ اختیار کی۔ 2023 میں مجید بریگیڈ کا حصہ بننا ان کے لیئے ایک باقاعدہ، سنجیدہ اور فیصلہ کن مرحلہ تھا، جس میں ذاتی زندگی اور ذاتی تحفظ کو پیچھے رکھ کر عملی جدوجہد کا انتخاب کیا گیا۔

ہکل میڈیا میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کے شوہر رشید بزدار عرف میرل بھی فدائی تھے۔ مریم اور رشید دونوں کی خواہش تھی کہ وہ ایک ساتھ فدائی مشن انجام دیں، مگر حالات اور فاصلے کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ رشید بزدار نے اس سے قبل ایک فدائی مشن میں حصہ لیا اور شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ دشمن نے ان کی شہادت کے بعد درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا سر کاٹ کر اپنے ساتھ لے گیا، جو قابض ریاست کی اخلاقی پستی اور بربریت کا کھلا ثبوت ہے۔

میڈیا کے مطابق “رشید بزدار کی شہادت اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کے باوجود فدائی مریم بزدار کے عزم میں کوئی کمزوری پیدا نہیں ہوئی۔ ان کا راستہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مزاحمت محض ردِعمل نہیں بلکہ ایک باخبر، ذمہ دار اور شعوری عمل ہے۔ ذاتی صدمے، رفاقت کی جدائی اور شدید نقصان کے باوجود ان کا فیصلہ قائم رہا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی وابستگی وقتی نہیں بلکہ فکری، عملی اور ناقابلِ تزلزل ہے۔”

ہکل میڈیا کے مطابق فدائی مریم بزدار نے آپریشن ہیروف 2.0 کے تیسرے دن نوشکی محاذ پر اعلیٰ ترین قربانی دی۔ انہوں نے 2 فروری 2026 کو نوشکی میں پاکستانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹرز کے اندر قریبی جھڑپوں میں لڑائی کے دوران حصہ لیتے ہوئے شہادت حاصل کی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بی ایل اے نے بلیدہ/زامران سے تعلق رکھنے والے ایک شادی شدہ جوڑے یاسمہ بلوچ (عرف زرینہ) اور وسیم بلوچ (عرف زربار) کی بھی تفصیلات جاری کی تھیں۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک ساتھ زندگی گزاری، اس سے پہلے کہ ایک ساتھ آخری مورچہ سنبھالا۔ یاسمہ بلوچ اور وسیم بلوچ، میاں بیوی تھے، انہوں نے پسنی میں قابض فورسز کے کیمپ پر حملے کے دوران ایک ساتھ اپنی جانیں قربان کیں۔ ان کی داستان محض شہادت کی نہیں، بلکہ اس لمحے کی ہے جہاں ذاتی زندگی اور قومی فرض مکمل طور پر یکجا ہو گئیں، اور پھرانکا رشتہ، عزم اور مزاحمت کی علامت بن گیا۔ یہ دو فدائین رفاقت کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے اور اس مشترکہ فیصلے پر قائم تھے کہ وہ اپنی سرزمین کی آزادی کے لیئے وہ سب کچھ قربان کردیں گے، جس کا مطالبہ مادرِ وطن کرے گی۔

Share This Article