بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) نے بلوچ فرزند بالاچ خالد کے ریاستی پشت پناہی والے ڈیتھ اسکواڈز کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں کمیٹی کا کہنا تھا کہ بالاچ خالد، جو پہلے بھی جبری گمشدگی کا شکار رہے اور کئی ماہ سی ٹی ڈی کی حراست میں گزارنے کے بعد رہا ہوئے تھے، ایک منظم ریاستی پالیسی کے تحت مسلسل نشانہ بنائے گئے۔ ان پر متعدد قاتلانہ حملے کیے گئے اور بالآخر انہیں تربت میں شہید کر دیا گیا۔
ان کے مطابق بالاچ خالد کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اللہ داد کی قبر پر ان کے قتل کی پہلی برسی کے موقع پر فاتحہ خوانی کے لیے گئے تھے۔ ڈیتھ اسکواڈ نے انہیں وہاں قتل کیا اور فرار ہوگئے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے تسلسل کا حصہ ہے، جس نے بلوچ عوام میں خوف، عدم تحفظ اور اجتماعی صدمے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ بالچ خالد کا قتل ایک سوچے سمجھے منصوبے اور ریاستی جبر کا نتیجہ ہے۔ یہ عمل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔