بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کا ’’رنا‘‘ ٹی وی کو دیا گیا حالیہ انٹرویو محض ایک سیاسی گفتگو نہیں بلکہ بلوچ قومی جدوجہد کے فکری، نظریاتی، تاریخی اور اخلاقی خدوخال کا ایک جامع اظہار ہے۔ یہ انٹرویو اس ریاستی بیانیے کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے جو بلوچستان کے مسئلے کو دانستہ طور پر دہشت گردی، سیکیورٹی خدشات اور نام نہاد ترقی جیسے محدود اور گمراہ کن خانوں میں قید رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ کی گفتگو دراصل اسی بیانیاتی جبر کے خلاف ایک منظم اور مسلسل فکری مزاحمت ہے، جو پاکستانی قبضے کے بعد سے بلوچ قوم پر مسلط ہے۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ کی گفتگو میں بلوچ قوم کی تاریخی جدوجہد انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو ستائیس مارچ مارچ۱۹۴۸ کے بعد شروع ہوا یعنی اس کی جڑیں پاکستان کا بلوچستان پر جبری قبضہ سے جڑی ہوئی ہیں۔ اسی لیے یہ جدوجہد نہ کل شروع ہوئی ہے اور نہ ہی عارضی نوعیت کی ہے، جو اس ریاستی اس تاثر کو رد کرتا ہے کہ بلوچ مزاحمت کسی حالیہ سیاسی بحران یا وقتی ردِعمل کا نتیجہ ہے۔
ستائیس مارچ ۱۹۴۸، جب پاکستان نے فوجی کارروائی کے ذریعے بلوچستان پر جبری قبضہ کیا، بلوچ اجتماعی شعور میں ایک ایسے زخم کی حیثیت رکھتا ہے جو آج بھی تازہ ہے۔ اس تاریخ کو یاد دلانا دراصل اس حقیقت پر اصرار ہے کہ بلوچ مسئلہ ایک زندہ تاریخی تنازع ہے، نہ کہ کوئی داخلی یا انتظامی مسئلہ۔
گیارہ اگست ۱۹۴۷ جس دن بلوچستان کی آزادی کا اعلان ہوتا ہے، اس تضاد کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار حیثیت رکھنے والی ریاست پر چند ہی ماہ بعد فوجی طاقت کے ذریعے قبضہ کر لیا گیا۔ لہذا بلوچ مزاحمت علاقائی اور گروہی بغاوت نہیں بلکہ ایک قومی ردِعمل ہے، جو جبری الحاق کے خلاف فطری انسانی اور قومی مزاحمت کے طور پر ابھرا۔ ریاست کا یہ مؤقف کہ بلوچستان کا مسئلہ ایک اندرونی معاملہ ہے، دراصل حقیقت کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ واضح طور پر اس مسئلے کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تناظر میں ایک نوآبادیاتی تنازع قرار دیتے ہیں۔
نوآباکار کا ہمیشہ یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ ایسی تحریکوں کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے، بلوچستان میں بھی پاکستانی سوچ یہی ہے کہ یہ ایک دہشت گردانہ عمل ہے۔ اس انٹرویوں میں اس ریاستی بیانیے کو نہایت دوٹوک انداز میں مسترد کیا گیا، اور انہوں نے دہشت گردی اور آزادی کی تحریکوں کے درمیان فرق کو انتہائی جامع انداز میں سامنے اجاگر کیا ہے کہ بلوچ تحریک نہ تو سرحدوں سے باہر پھیلی ہے اور نہ ہی اس نے کبھی کسی دوسرے ملک کی سرزمین کو اپنا ہدف بنایا۔ یہ ایک مقامی، قومی اور اپنی سرزمین تک محدود آزادی کی تحریک ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کی ریاستی تاریخ پراکسی جنگوں، عسکری مداخلت اور سرحد پار کارروائیوں سے بھری پڑی ہے۔ بھارت، افغانستان یا ایران پر الزامات دراصل اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک پرانی اور آزمودہ حکمتِ عملی ہیں۔
پاکستان ہمیشہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ہمسایہ ممالک کو مورودِ الزام ٹھہراتا ہے، لیکن اب دنیا کے سامنے بھی یہ بات افشا ہوچکی ہے کہ پاکستان ازخود دہشت گردی کی نرسری ہے، جس نے نہ صرف خطے کا امن تباہ کرکے رکھ دیا ہے بلکہ یورپ تک اس کے قدموں کے نشان ملتے ہیں۔
پاکستان کے ساتھ مزاکرات کے عمل پر بھی ان کا موقف انتہائی واضح اور دانشمندہ ہے کیوں کہ یہ بات سب کے سامنے عیاں ہے کہ اس غیرفطری ریاست نے نواب نورزخان اور اس کے ساتھیوں کو قرآن پر حلف لیکر مذاکرات کی میز پر لایا لیکن انجام آج تاریخ کا حصہ ہے، جہاں نوروزخان کے چھ ساتھیوں کو صولی پر چڑھایا گیا جبکہ پیراںسال نواب نوروزخان نویں برس کی عمر میں زندان میں داعی اجل کو لبیک کہتا ہے۔ اس کے علاوہ آغاعبدالکریم خان کے ساتھ بھی یہی طریقہ اپنایا گیا، انجام سے آج سب واقف ہیں۔ لہذا ایسی ریاست سے مذاکرات جس کی بنیاد بدعہدی اور فریب پر ہو، محض وقت کا ضیاع ہیں۔ تاہم وہ اصولی طور پر مذاکرات کے مخالف نہیں، بلکہ بین الاقوامی ضمانت کو ناگزیر شرط قرار دیتے ہیں۔ یہ شرط کسی ضد یا غیر حقیقت پسندانہ مطالبے پر مبنی نہیں بلکہ بلوچ تاریخی تجربے کا منطقی نتیجہ ہے۔
پاکستانی پارلیمانی سیاست پر ان کی تنقید بھی اسی تاریخی شعور کا تسلسل ہے۔ کئی دہائیوں تک بلوچ جماعتوں اور رہنماؤں کی پارلیمان میں موجودگی کے باوجود بلوچستان کے حالات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آنا اس نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ مینگل اور مالک جیسے رہنماؤں کی بے اختیاری اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ یہ نظام دراصل طاقت کے اصل مراکز کے سامنے محض ایک نمائشی ڈھانچہ ہے، جو غلامی کو دوام دینے کا ذریعہ بن چکا ہے۔
انسانی حقوق کے حوالے سے ڈاکٹر نسیم بلوچ کی گفتگو اس انٹرویو کا سب سے ہلا دینے والا پہلو ہے۔ ’’پانک‘‘ کی رپورٹوں کے مطابق، ایک سال کے دوران ایک ہزار سے زائد جبری گمشدگیاں اور سینکڑوں مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول حقیقت ہے۔ توتک کی اجتماعی قبریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچستان میں ریاستی تشدد محض انفرادی زیادتی نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کی شکل اختیار کر چکا ہے، جسے نسل کشی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
تحریک کے تناظر میں وہ بلوچ خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کو ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہیں۔ یہ انتہائی اہم نقطہ ہے جس پر انہوں کھل اظہار خیال کیا ہے اور ویسے بھی ایک سیاسی کارکن کو اس بات کا ادراک رہتا ہے کہ جن تحریکوں میں خواتین سرگرم کردار ادا کرتی ہیں، وہ نہ صرف اخلاقی برتری حاصل کرتی ہیں بلکہ زیادہ پائیدار بھی ثابت ہوتی ہیں اسی تناظر میں بلوچ خواتین کی مزاحمت بھی آج تحریک کو نئی توانائی اور اخلاقی قوت فراہم کر رہی ہے۔
سی پیک اور نام نہاد ترقی کے منصوبوں پر تنقید بھی ان کی گفتگو کا حصہ ہے جہاں وہ اس ان نوآبادیاتی منصوبے کو ایک استحصالی منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ گوادر، جو سی پیک کا مرکز کہلاتا ہے، آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جبکہ وسائل اور بندرگاہ پر مقامی آبادی کے بجائے عسکری اور بیرونی کنٹرول قائم ہے۔ باڑیں، چیک پوسٹیں اور سخت نگرانی اس حقیقت کی علامت ہیں کہ یہاں ترقی نہیں بلکہ قبضے کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔
میرے نزدیک ڈاکٹرنسیم بلوچ کی گفتگو کا سب سے طاقتور لمحہ وہ ہے جہاں وہ ایک فوج اور ایک قوم کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ ویتنام اور افغانستان کی مثالیں دیتے ہوئے وہ اس اٹل حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عسکری طاقت بالآخر قومی ارادے کے سامنے شکست کھا جاتی ہے۔ بلوچ جدوجہد فوری کامیابی کا دعویٰ نہیں کرتی، مگر اس یقین پر قائم ہے کہ ایک قوم کو طاقت کے زور پر مٹایا نہیں جا سکتا۔
اس ضمن میں بیشمار مثالیں ہمیں ملتی ہیں کہ اپنے وقت کے سپرپاورز کو آزادی کی تحریکوں کے خلاف کوئی کامیابی نہیں ملی، وہ چاہے ایشیا ہو، افریقہ یا پھر لاطینی امریکہ۔
مجموعی طور پر یہ انٹرویو بلوچستان کے مسئلے کو دہشت گردی، سیکیورٹی یا ترقی کے تنگ دائروں سے نکال کر قومی آزادی اور نوآبادیاتی جبر کے وسیع تر تناظر میں رکھتا ہے۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ طاقت کے ذریعے مختصر وقت کے لیے خاموشی تو مسلط کی جاسکتی ہے، مگر تاریخ، شناخت اور قومی شعور کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
***