امریکہ کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ھیروف کے تحت جاری حملوں پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے، جہاں بلوچ جنگجوؤں کے حملے اور سیکورٹی فورسز کی سخت کارروائیاں جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح خیبر پختونخوا بھی شدید عدم استحکام اور بحران کی کیفیت سے دوچار ہے، ادھر پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما عمران خان تاحال جیل میں قید ہیں اور مبینہ طور پر تنہائی میں رکھے گئے ہیں، جبکہ ان پر عائد الزامات کو کئی حلقے من گھڑت قرار دیتے ہیں۔
زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ بیرونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومت خود کو ایک مشکل صورتحال میں پھنسا چکی ہے۔
رینڈ کارپوریشن سے وابستہ ایک سابق سینئر تجزیہ کارکے مطابق پاکستان کو چاہیے کہ وہ باصلاحیت اور کثیرالجہتی پاکستانی ماہرین پر مشتمل ایک آزاد گروپ کو ملک کے اندرونی بحرانوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنے اور سیاسی حل سمیت قابل عمل تجاویز پیش کرنے کا موقع دے۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی حکومت ایسا غیر متوقع قدم اٹھائے گی؟ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔