عسکریت پسندوں کے ٹھکانے ملک کے باہر بھی ہوں ، نشانہ بنانا پڑے گا،خواجہ آصف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں شدت پسندوں نے دو خواتین کو بھی استعمال کیا تھا۔

اتوار کے روز سیالکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ شدت پسند نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کی ذہن سازی کر رہے ہیں۔

سنیچر کے روز بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے حملوں کے متعلق وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ کل جو واقعات ہوئے ہیں ان میں دو جگہوں پر خواتین کو بھی استعمال کیا گیا ہے۔

خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی اداروں نے عسکریت پسندوں کا کوآرڈینیٹد حملہ ناکام بنایا ہے اور وہ اب ’موپنگ اپ آپریشنز‘ میں لگے ہوئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں گذشتہ سال ڈیڑھ سال سے نسبتاً امن تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑے گا، چاہے وہ ملک میں ہوں یا باہر۔ ’اگر افغانستان ان کی پشت پناہی کر رہا ہے تو ہم کوئی بھی قدم اٹھانے میں دریغ نہیں کریں گے۔‘

اس سے قبل پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا تھا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد شہروں میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 92 عسکریت پسند اور 15 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

Share This Article