کراچی سے زاہد بارکزئی کی جبری گمشدگی، ایچ آر سی پی کا اظہار تشویش

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سماجی کارکن زاہد بارکزئی بلوچ کی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایچ آر سی پی کے مطابق زاہد بلوچ کو 27 جنوری 2026 کی علی الصبح کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر اغواء کیا گیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آ سکی۔

ایچ آر سی پی کو ایک اہلِ خانہ کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت کے مطابق نقاب پوش افراد نے زبردستی زاہد بلوچ کے گھر میں داخل ہو کر انہیں اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ واقعے کے بعد سے ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے زاہد بلوچ کی سلامتی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی فرد پر کسی جرم کا الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے، نہ کہ جبری طور پر لاپتہ کیا جائے۔

ایچ آر سی پی نے سندھ کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر زاہد بلوچ کو تلاش کریں، ان کی موجودگی ظاہر کریں اور معاملے میں قانون کے مطابق سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔

Share This Article