پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں نے بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور کراچی کے بلوچ علاقے لیاری سے 4 بلوچ نوجوانوں کوحراست میں لیکرجبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔
کراچی سے اطلاعات ہیںکہ فورسز نے زاہد بارکزئی نامی نوجوان کو جبری طور پر لاپتہ کردیاہے۔
علاقائی ذرائع کے 27 جنوری 2026 تقریباً رات دو سے ڈھائی بجے کے درمیان سادہ لباس میں ملبوس خفیہ اداروں و فورسز اہلکاروں نے زاہد کو گھر سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام منتقل کردیا ۔
اہلخانہ نے کہاکہ زاہد بارکزئی بے گناہ بے اس کو بحفاظت بازیاب کیا جائے۔
دوسری جانب کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے سوراب سے تعلق رکھنے والے 3 نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
یہ نوجوان 23 اور 24 جنوری 2026 کو فورسز کی جانب سے حراست میں لیے گئے، تاہم کئی دن گزرنے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی سرکاری معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
لاپتہ ہونے والوں میں ایک نوجوان ڈاکٹر، ایک طالب علم اور ایک اسکول ٹیچر شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شاہزین احمد ولد غلام حیدر، عمر تقریباً 25 سال، پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر اور ضلع سوراب کے رہائشی ہیں۔ انہیں 24 جنوری 2026 کو کوئٹہ کے علاقے گنجھ چوک، اسپنی روڈ سے اغوا کیا گیا۔
اسی طرح جنید احمد ولد علی احمد، عمر 22 سال، جو کہ ایک طالب علم ہیں اور ان کا تعلق بھی ضلع سوراب سے ہے، 23 جنوری 2026 کو چلڈرن اسپتال، کواری روڈ، کوئٹہ سے لاپتہ ہوئے۔
تیسرے لاپتہ فرد علی احمد ریکی ولد رشید احمد، عمر 40 سال، ایک اسکول ٹیچر ہیں اور ضلع سوراب کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ انہیں بھی 24 جنوری 2026 کو گنجھ چوک، اسپنی روڈ، کوئٹہ سے حراست میں لیاگیا ہےجس کے بعد لاپتہ ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق تینوں افراد کو سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعلقہ تھانوں اور حکام سے رجوع کیا، تاہم اب تک کسی ادارے نے ان کی گرفتاری یا حراست کی تصدیق نہیں کی۔