ایمان مزاری اور ہادی علی کی سزا اظہار رائے اور وکلاء کی آزادی کے خلاف ہے، ترجمان یورپی یونین

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

یورپی یونین کے ترجمان برائے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو دی جانے والی سزاؤں کی مزمت کی ہے۔

سوشل میّڈیا سائٹ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ ’ انسانی حقوق کے وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر سزا اظہار رائے کی آزادی اور وکلاء کی آزادی کےخلاف ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ نہ صرف کلیدی جمہوری اصول ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کا بھی حصہ ہیں۔‘

یاد رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو متنازع ٹویٹس کیس میں الگ الگ دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 برس قیدِ بامشقت کی سزا سُنائی تھی۔

عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) کی دفعہ 9 کے تحت پانچ، پانچ برس، پیکا کی دفعہ 10 کے تحت 10، 10 برس اور پیکا کی دفعہ 26 اے کے تحت دو برس قید کی سزا سُنائی گئی ہے۔

ان دفعات کے تحت ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر مجموعی طور پر 90 لاکھ روپے کا جُرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ تاہم تمام سزائیں ایک ساتھ نافذ العمل ہوں گی اور دونوں کو 10، 10 برس قید کی سزا کاٹنی ہوگی۔

Share This Article