کوئٹہ : سخت سردی اور برفباری میں بھی وی بی ایم کا احتجاج جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ آج بروز پیر کوئٹہ کے سخت سردی اور برفباری میں بھی تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6060ویں روز جاری رہا۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پلیٹ فارم سے گزشتہ 16 سال سے پرامن اور آئینی طریقے سے جدوجہد کررہے ہیں، ہمارا احتجاجی کیمپ گزشتہ 16 سال سے مسلسل جاری ہے، ہمارے مطالبات بھی آئینی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے قانون اقدامات کا مکمل سدباب کیا جائے، تمام جبری لاپتہ افراد کو منظر عام پر لاکر انہیں قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ان 16 سالہ جدوجہد کے دوران ان مطالبات کو لے کر انصاف کے فراہمی کے لیے بنائے گئے اداروں کی دروازوں کو مسلسل دستک دیتے آرہے ہیں، اور اس دوران مختلف وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ لاپتہ افراد کے مسلے کے حوالے سے کئی بار ملاقاتیں کرچکے ہیں، ہمیں عدلیہ اور وفاقی صوبائی حکومتوں نے ہر بار یقین دلایا کہ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ملکی قوانین کے تحت حل کرنے کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھائے جائینگے، لیکن افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ اب تک کسی بھی سطح پر جبری گمشدگیوں کے خاتمہ اور لاپتہ افراد کے بازیابی کو یقینی بنانے کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھائے نہیں جارہے ہیں۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ اب تک جبری گمشدگیوں کا مسلہ حل نہیں ہوا، بلکہ ملکی سلامتی کو جواز بنا کر ملکی ادارے ملکی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خاف ورزیاں کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کے سلسلے کو تسلسل سے جاری رکھے ہوئے ہیں، اب تو اس میں شدید تیزی لائی گئی ہے اور بلوچ خواتین کو بھی جبری گمشدگی کا شکار بنایا جارہا ہے ، جو یقیناً ایک غیر جمہوری عمل اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے ایک دفعہ پھر حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو انسانی ہمدردی کے بنیاد پر دیکھے، کیونکہ ایک شخص کی جبری گمشدگی کی وجہ سے اس کا پورا خاندان ذہنی کرب و اذیت میں مبتلا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی زندگی مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے۔ اس لیے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں کو چاہیے کہ وہ اس انسانی مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائیں۔

Share This Article