25 جنوری بلوچ نسل کشی یومِ یادگاری کے موقع پر بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے بلوچستان کے مختلف اضلا ع سوراب، مستونگ اور خضدارمیں بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلائی گئی، جس کے دوران کارکنوں نے گھر گھر، بازاروں، گلیوں اور اہم شاہراہوں پر پمفلٹس تقسیم کیے۔
اس مہم کا مقصد بلوچ عوام کو منظم نسل کشی، جبری گمشدگیوں اور ریاستی جبر کے تسلسل سے آگاہ کرنا تھا۔
سوراب میں کارکنوں نے مین بازار سے لے کر کِلی ڈمب، کِلی سرخ، کِلی عزیز آباد، ڈُن، حاجیکا اور نگار تک پمفلٹس پہنچائے۔
بچوں، بزرگوں، مزدوروں، دکانداروں اور طلبہ سمیت ہر طبقے نے اس مہم میں بھرپور دلچسپی لی۔ لوگوں نے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، وسائل کی لوٹ مار اور خوف میں جینے والی زندگیوں کے حقائق پڑھے اور اس حقیقت سے منہ موڑنے سے انکار کیا۔
مستونگ میں بی وائی سی کارکنوں نے مستونگ بازار، شہید صفدر خان چوک، کِلی محمد حسنی، کِلی کونگھار، کِلی بچہ آباد، کِلی داتو، کِلی پیرکانو، بہرام شاہی، خواسم، کِلی لڈا، ماری سونگار، پرنگ آباد، سورگاز، رحیم آباد، گھنجهہ ڈوری، کِلی تیری اور مستونگ روڈ تک پمفلٹس تقسیم کیے۔
پمفلٹس میں واضح کیا گیا کہ بلوچوں کو ان کی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس صورتحال پر آواز بلند کریں۔
خضدار میں ارباب کمپلیکس، فاروق چوک، مین ہائی وے روڈ، سدا بہار مارکیٹ اور اسپتال روڈ پر پمفلٹس تقسیم کیے گئے۔ ہر عمر اور طبقے کے لوگوں تک یہ دستاویزی حقائق پہنچائے گئے جو سات دہائیوں سے جاری بلوچ نسل کشی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
کارکنوں نے کہا کہ یہ معلومات صرف کاغذ تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ انہیں ہاتھ سے ہاتھ اور بات سے بات آگے منتقل کرنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
تینوں اضلاع میں چلائی گئی اس مہم نے واضح کیا کہ بلوچ نسل کشی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ جاری حقیقت ہے۔
بی وائی سی کے مطابق بلوچ قوم یاد رکھتی ہے، مگر صرف یاد رکھنا کافی نہیں،آگاہی، یکجہتی اور پُرامن مزاحمت ہی انصاف اور انسانی وقار کی جدوجہد کو آگے بڑھا سکتی ہے۔