بلوچ نسل کشی یادگار دن: کوئٹہ اور تربت میں سیمینارز کا انعقاد

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ نسل کشی یادگار دن کی مناسبت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے کوئٹہ اور تربت میں سیمینارز کا انعقادکیا گیا۔

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بلوچ نسل کشی یادگار دن کے موقع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں توتک کے اجتماعی قبروں اور مسخ شدہ لاشوں کی دریافت کو یاد کیا گیا۔

تقریب میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ نے اپنے کربناک تجربات بیان کیے۔ بی وائی سی کے زیرِ حراست رہنماؤں کے خاندانوں نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ ریاست کس طرح قانون کو ہتھیار بنا کر بلوچ عوام کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سیمینار میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبو بلوچ، گلزادی بلوچ، شاہ جی بلوچ اور بیبگر بلوچ کی غیر قانونی حراست کو اجاگر کیا گیا۔

ڈاکٹر صبیحہ نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تسلسل پر تفصیل سے بات کی اور بتایا کہ ریاستی ادارے احتجاج کو روکنے کے لیے سخت رویہ اختیار کرتے ہیں، جبکہ آواز بلند کرنے والوں کو مسلسل ہراساں، تشدد اور جبری طور پر لاپتہ کیا جاتا ہے۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے واضح پیغام دیا کہ ظلم و جبر کے باوجود بلوچ عوام اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہر حربہ ناکام ہوگا اور انصاف کی پکار دنیا تک پہنچتی رہے گی۔

یہ سیمینار بلوچ عوام کی جدوجہد اور اُن کے عزم کی علامت کے طور پر سامنے آیا، جس میں عالمی برادری کو بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح ضلع کیچ کے مرکزی شہر تُربت میں بلوچ نسل کشی یادگار دن کے موقع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

اس دن کو بلوچ شہداء کی یاد اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے طور پر منایا جاتا ہے۔

تقریب میں مقررین نے توتک کے سانحے کو یاد کیا، جہاں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے بلوچوں کی 100 سے زائد لاشیں اجتماعی قبروں میں برآمد ہوئیں اور انہیں نامعلوم قرار دیا گیا۔ متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

شرکاء نے کہا کہ 25 جنوری کوئی جشن نہیں بلکہ درد، یاد اور مزاحمت کی علامت ہے۔ یہ دن اس عزم کی تجدید ہے کہ بلوچ عوام ظلم و جبر کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور دنیا کو ان مظالم سے آگاہ کرتے رہیں گے۔

سیمینار کا مقصد عالمی برادری کو بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف متوجہ کرنا اور انصاف کے لیے اجتماعی آواز کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

Share This Article