بلوچستان کے علاقے خضدار اور پنجگورمیں پاکستانی فورسز نے جارحیت کے دوران خواتین وبچوں کو تشدد کا نشانہ بناکر 3 افراد کوجبری گمشدگی کا نشانہ بنایاجس کے بعد ان کے حوالے سے کوئی خبر نہیں۔
ضلع خضدار کے علاقے اورناچ میں گزشتہ روز فورسز کی جانب سے ایک کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں پر تشدد اور دو افراد کی جبری گمشدگی کے اطلاعات سامنے آئے ہیں۔
مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق یہ چھاپہ فورسز نے نامعلوم مسلح افراد، جنہیں مقامی سطح پر “ڈیتھ اسکواڈ” سے تعبیر کیا جا رہا ہے، کے ہمراہ مارا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران گھروں میں موجود خواتین اور بچوں نے گرفتاری کی کوششوں پر مزاحمت کی، جس کے بعد فورسز نے خواتین اور کم عمر بچوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ مقامی افراد کے مطابق تشدد کے نتیجے میں متعدد خواتین زخمی ہوئیں جبکہ بچوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران دو افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، جن کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ لاپتہ کیے گئے افراد کی شناخت یاسین ولد بہرام اور یوسف ولد محمد کریم کے ناموں سے ہوئی ہے۔
اسی طرح پنجگور وشبود کے علاقے میں سروس اسٹیشن پر کام کرنے والے ایک شخص کو مسلح افراد اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس کے مطابق پنجگور کے علاقے وشبود سے نامعلوم گاڑی سواروں نے اسلحہ کے زور پر جاسم نامی شخص کو اغوا کرلیا، واقعے سے متعلق پولیس مزید تفتیش کررہی ہے۔