بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) نے 25 جنوری کو ’بلوچ نسل کشی کی یادگاری دن‘ کے طور پر منانے کے لیے تین تفصیلی آگاہی پمفلٹس جاری کیے ہیں، جن میں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ، اجتماعی قبروں، معاشی محرومی، وسائل کے استحصال اور سیاسی جبر کو منظم نسل کشی اور نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کا تسلسل قرار دیا گیا ہے۔
پمفلٹس میں اقوامِ متحدہ کی تعریف کے مطابق نسل کشی کے مختلف پہلوؤں—جسمانی، ذہنی، معاشی اور ثقافتی—کو بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال سے جوڑتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچ عوام دہائیوں سے ایسے حالات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں زندگی، شناخت اور آزادی کے بنیادی حقوق شدید خطرے میں ہیں۔ خضدار کے علاقے توتک میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں کو اس پالیسی کی ’’سب سے ہولناک علامت‘‘ قرار دیا گیا ہے، جہاں تقریباً 200 لاپتہ افراد کی لاشیں بغیر شناخت اور بغیر تحقیقات دفن کی گئیں۔
پمفلٹس کے مطابق جبری گمشدگیاں پورے بلوچستان میں معمول بن چکی ہیں، جہاں خاندان برسوں تک اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر رہتے ہیں۔ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈز، گھروں پر چھاپے، ٹارگٹ کلنگ اور ماورائے عدالت قتل کو بلوچ معاشرے میں خوف اور خاموشی مسلط کرنے کی منظم کوشش قرار دیا گیا ہے۔
دستاویزات میں صحت کی سہولیات کی کمی، کینسر اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض کے پھیلاؤ، اور چاغی و ڈیرہ بگٹی میں ایٹمی تجربات اور یورینیم مائننگ کے تابکاری اثرات کو بھی بلوچ آبادی کے لیے ’’مہلک خطرہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ سیندک، ریکوڈک، گیس، کوئلہ اور دیگر معدنی وسائل کے وسیع استحصال کے باوجود مقامی آبادی غربت، بے روزگاری اور بے دخلی کا شکار ہے۔
گوادر میں پانی کی قلت، ٹرالر مافیا کے باعث ماہی گیروں کے روزگار پر ضرب، اور سی پیک منصوبوں کی ناقص منصوبہ بندی کو بھی معاشی و سماجی جبر کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ پمفلٹس میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں بنیادی شہری حقوق کا مطالبہ کرنا، تعلیم حاصل کرنا یا اظہارِ رائے کرنا جرم سمجھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں سیاسی آوازوں کو دبانے کا سلسلہ جاری ہے۔
پمفلٹس میں تاریخی پس منظر بھی پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق 1948 کے الحاق اور بعد ازاں فوجی کارروائیوں نے بلوچ قوم کو ایک ایسے نظام کے تابع کیا جس میں سیاسی و معاشی حقوق مسلسل نظرانداز کیے گئے۔ انجمن اتحادِ بلوچاں (1922) سے لے کر موجودہ تحریکوں تک بلوچ مزاحمت کی روایت کو اس جدوجہد کا تسلسل قرار دیا گیا ہے۔
حیات بلوچ اور برمش جیسے واقعات کو ریاستی جبر کی نمایاں مثالیں قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان سانحات کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ایک منظم عوامی تحریک اٹھی، جس نے تربت سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کی شکل اختیار کی۔ پمفلٹس میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری اور انٹرنیٹ پابندیوں کو سیاسی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق 25 جنوری صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ بلوچ قوم کی اجتماعی مزاحمت، قربانیوں اور حقِ خود ارادیت کے بیانیے کو زندہ رکھنے کی علامت ہے۔ پمفلٹس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بلوچ قوم کے پاس ریاستی طاقت یا بڑے ذرائع ابلاغ نہیں، مگر اس کے پاس شعور، حوصلہ اور مزاحمت کی روایت موجود ہے، جو شاعری، ادب، آرٹ اور عوامی تحریکوں کے ذریعے زندہ ہے۔