بلوچستان گرینڈ الائنس کے پرامن احتجاج پر پولیس کا وحشیانہ کریک ڈاؤن فاشزم کا واضح ثبوت ہے، بی ایس ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کے پُرامن احتجاج پر پولیس کا وحشیانہ دھاوا، اساتذہ، پروفیسرز اور دیگر سرکاری ملازمین پر لاٹھی چارج، اور انسانی حقوق کی بے باک، توانا آواز ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے خاوند وکیل ہادی چھٹہ کی جھوٹے مقدمات میں گرفتاری انتہائی تشویشناک، قابل مذمت اور جمہوری اقدار کے منافی عمل ہے۔ یہ تمام اقدامات حکومت کی فسطائیت کا واضح ثبوت ہیں، جن کی تنظیم شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

ترجمان نے کہا اساتذہ، پروفیسرز اور وکلاء کسی بھی معاشرے میں رہنمائی، شعور اور انصاف کی علامت ہوتے ہیں۔ ان پر لاٹھی چارج، تشدد اور بلاجواز گرفتاریاں نہ صرف ان معزز شعبوں کی توہین ہیں بلکہ اس امر کا بھی واضح ثبوت ہیں کہ موجودہ حکمران اختلافِ رائے برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ اساتذہ اور وکلاء کو یوں سڑکوں پر گھسیٹنا اور حراست میں لینا ایک المناک اور شرمناک عمل ہے، جسے کسی بھی مہذب معاشرے میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ آج بلوچ سرزمین پر اپنے آئینی، قانونی اور جائز حقوق کے لیے پُرامن آواز بلند کرنا ناقابلِ معافی جرم بنا دیا گیا ہے۔ جو استاد اپنی تنخواہ کا مطالبہ کرے وہ مجرم، جو وکیل آئین کی بالادستی کی بات کرے وہ باغی، اور جو سرکاری ملازم حق کی بات کرے وہ حکومت دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ یہ نظام نہیں بلکہ کھلا جبر ہے۔ حکومت ایک طرف بہتر گورننس، تعلیمی اصلاحات اور میرٹ کے کھوکھلے نعرے لگاتی ہے، جبکہ دوسری طرف اسی حکومت کے ہاتھ اساتذہ کے گریبانوں پر، وکلاء کی گردنوں پر اور ملازمین کی عزت پامال کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ محض دوغلا پن نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا حکومتی جبر ہے جس کا مقصد خوف پھیلا کر عوام کو خاموش رکھنا ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ مطالبہ کرتی ہے کہ تمام اساتذہ، ملازمین اور ایڈووکیٹ ایمان مزاری سمیت اُن کے خاوند ایڈووکیٹ ہادی چھٹہ اور دیگر تمام گرفتار افراد کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔ اساتذہ اور ملازمین پر تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں، اور پُرامن احتجاج کے جمہوری حق کو تسلیم کیا جائے۔

Share This Article