بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بلوچستان میں پاکستانی فوج کی سرپرستی میں منشیات کی تشویشناک صورتحال پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت منشیات خاموش قتل عام کا ایک اور مضبوط ذریعہ ہے، جس سے سالانہ سینکڑوں بلوچ نوجوان موت کے آغوش میں چلے جاتے ہیں یا مفلوج ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں منشیات کا کاروبار اور اس کے پھیلاؤ میں ریاست پاکستان کی فوج اور اس کے ادارے براہ راست ملوث ہیں، جبکہ تمام منشیات فروش اس وقت بلوچستان میں بڑے بڑے سرکاری عہدوں اور پارلیمنٹ کے ممبران ہیں۔
ان کے مطابق اس وقت بلوچستان میں منشیات فروشی اور نشہ اتنا عام ہے کہ ہم تصور نہیں کر سکتے ۔ ہر گلی اور شاہراہوں پر آپ کو منشیات کے اڈے نظر آئیں گے اور تمام منشیات فروشوں کو براہِ راست ریاست پاکستان کے خفیہ اداروں اور سیکورٹی فورسز کی پشت پناہی حاصل ہے ، اور علاقائی سطح پر منشیات فروشوں کے ڈیلروں کو پاکستان فوج کی پشت پناہی حاصل ہے۔