جیونی ، خاران اور کوئٹہ سے 5 نوجوان جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی کارروائیوں کی سنگین اور غیر انسانی اقدامات میں اضافہ ہو اہے ۔

ضلع گوادر کے علاقےجیونی ، خاران اور کوئٹہ پاکستانی فورسز نے 5 نوجوانوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جس کے بعد خاندانوں کے ان کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں ۔

جیونی میں معروف سیاسی و سماجی شخصیت محمد حسن کے دو بیٹوں، بالاچ ولد محمد حسن اور احسان ولد محمد حسن کو گزشتہ شب سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کے بعد اہل خانہ نے ان کی جبری گمشدگی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

اہل خانہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ شب تل سر جیونی میں واقع محمد حسن کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سول لباس اور وردی میں ملبوس اہلکاروں نے خواتین اور بچوں کو نیند سے جگا کر گھر کی تلاشی لی۔

اہل خانہ کا الزام ہے کہ اس دوران ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا اور گھریلو سامان بکھیر دیا گیا، تاہم تلاشی کے باوجود کوئی ممنوعہ اشیاء برآمد نہیں ہوئیں۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ چھاپے کے وقت اہلکاروں کے پاس نہ تو سرچ وارنٹ موجود تھا اور نہ ہی بالاچ اور احسان کی گرفتاری کے لیے کوئی قانونی وارنٹ دکھایا گیا۔

ان کے مطابق دونوں نوجوانوں کو کسی قانونی طریقہ کار کے بغیر حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔

محمد حسن کے اہل خانہ نے بچوں کی گرفتاری اور بعد ازاں ان کی نامعلوم مقام پر منتقلی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال انہیں دونوں نوجوانوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی ان کی سلامتی سے متعلق ضلعی انتظامیہ یا کسی سیکیورٹی ادارے کی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع دی گئی ہے۔

اہل خانہ اور مقامی افراد نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بالاچ اور احسان کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ اہل خانہ کی تشویش کا ازالہ ہو سکے۔

دوسری جانب ضلع خاران میں دو نوجوانوں کی جبری گمشدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہے۔

مقامی ذرائع اور اہل خانہ کے مطابق دونوں نوجوانوں کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی شناخت عبداللہ ولد حفیظ اللہ سیاہ پاد اور فرہاد ولد احمد بلوچ کے طور پر کی گئی ہے۔

اہل خانہ کے مطابق عبداللہ کو 18 جنوری کی رات ان کے گھر پر چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا۔

خاندان کا کہنا ہے کہ فورسز کے اہلکار بغیر کسی وارنٹ کے گھر میں داخل ہوئے اور نوجوان کو اپنے ساتھ لے گئے، جس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔

جبکہ فرہاد ولد احمد بلوچ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں خاران شہر کے علاقے رب پٹ جوژان سے حراست میں لیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق انہیں ایک پاکستانی فورسز کے گاڑی میں بٹھا کر لے جایا گیا، تاہم گرفتاری کی وجہ یا مقام کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ کیے گئے ان کے پیاروں کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے۔

علاوہ ازیں حافظ نزیر احمد لہڑی ولد سنجر خان لہڑی، جو پیشے کے لحاظ سے سرکاری ملازم ہیں، کو رواں سال یکم جنوری کو سریاب روڈ، کوئٹہ میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا۔

Share This Article