بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) نے بلوچستان میں سرکاری ملازمین کے خلاف حکومتی کریک ڈائون کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ میں سرکاری ملازمین اور احتجاجی قیادت کے خلاف جاری کریک ڈاؤن اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ریاست عوامی مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور جمہوری طریقۂ کار کے بجائے طاقت، دھونس اور تشدد کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف جابرانہ ہے بلکہ عوام کے بنیادی حقوق پر براہِ راست حملہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ریاست کے اس جابرانہ اور آمرانہ طرزِ عمل کی شدید اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جس کے تحت پرامن احتجاج، آئینی حقوق اور جمہوری آوازوں کو منظم طاقت کے ذریعے کچلا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ حکمرانی عوامی نمائندگی نہیں بلکہ جبر اور خوف مسلط کرنے کی پالیسی کا عکاس ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ معاشی استحصال کے اس دور میں تنخواہوں اور واجبات کا مطالبہ کوئی جرم نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تنسیخ بنیادی حق ہے۔ پرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج، بلاجواز گرفتاریاں اور منظم ہراسانی آئین کی روح، جمہوری اقدار اور انسانی وقار کی صریح توہین ہیں۔ ایسے اقدامات بلوچستان میں پہلے سے موجود ریاستی جبر اور مظالم میں مزید شدت لانے کا عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ پریس کلب جیسے جمہوری اور عوامی مقامات کو اختلافِ رائے کے لیے غیر محفوظ بنانا اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاست خوف اور تشدد کے ذریعے کنٹرول قائم رکھنا چاہتی ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ استحکام لا سکتا ہے اور نہ ہی عوامی رضامندی، بلکہ یہ بحران کو مزید شدت دیتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ تمام گرفتار احتجاجی رہنماؤں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے، سرکاری ملازمین کے جائز اور قانونی مطالبات تسلیم کیے جائیں، اور طاقت کے استعمال کی پالیسی ترک کر کے سنجیدہ، بامعنی اور بااختیار مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔