لاپتہ افراد کے منظر عام پر لانے کے حکومتی دعویے پر عملدرآمد مشکل ہے، نصراللہ بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ( وی بی ایم پی ) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور حراستی مراکز کے قیام سے متعلق حکومتِ بلوچستان کے مؤقف اور حالیہ قانون سازی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مقامی میڈیا رسانکدر بلوچستان سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ ایسے قوانین سے بھری پڑی ہے جنہیں سلامتی کے نام پر منظور کیا گیا، مگر عملی طور پر ان کا استعمال شہری حقوق کی پامالی کے لیے کیا گیا۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں 1997 میں منظور ہونے والے ایکٹ میں بھی یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ شک کی بنیاد پر بغیر وارنٹ گرفتاری کی صورت میں لواحقین کو آگاہ کیا جائے گا اور ملاقات کی اجازت دی جائے گی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس رہے اور قانون کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔ اسی طرح 2014 میں منظور ہونے والے ایکٹ کے تحت بھی گرفتار افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کرنے کی آئینی شرط پوری نہیں کی گئی اور نہ ہی خاندانوں کو معلومات فراہم کی گئیں۔

ان کے مطابق 2025 کے مجوزہ یا حالیہ ایکٹ میں یہ دعویٰ شامل کیا گیا ہے کہ شک کی بنیاد پر گرفتار شخص کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اس کے جرم اور مقامِ حراست سے خاندان کو آگاہ کیا جائے گا، تاہم وی بی ایم پی کو ان تمام قوانین پر سنجیدہ خدشات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایسے وعدے عملی طور پر پورے نہیں کیے گئے۔

نصراللہ بلوچ نے عدلیہ کے کردار پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سوموٹو نوٹسز کے ذریعے عدالت سے کچھ امیدیں وابستہ تھیں، مگر اب وہ اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں اور آئینی بینچ کے قیام نے عدالتی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان کے بقول ملکی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر بنائے گئے قوانین نے ظلم و زیادتیوں میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئی قانون سازی سے جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے بجائے ان میں شدت آ سکتی ہے اور ریاستی اداروں کو ماورائے قانون اقدامات کے لیے مزید تحفظ مل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے رکھنے والوں، سیاسی کارکنوں اور پرامن سیاسی عمل سے وابستہ افراد کے خلاف بغیر وارنٹ اور محض شک کی بنیاد پر کریک ڈاؤن کا خطرہ ہے، جس سے جمہوری سرگرمیوں کا گلا گھونٹا جا سکتا ہے۔

نصراللہ بلوچ نے مزید کہا کہ جن افراد پر ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات لگتے ہیں، ماضی میں انہیں قانونی تقاضوں کے تحت عدالتوں کے سامنے پیش کرنے کے بجائے حراستی مراکز سے باہر رکھ کر جبری گمشدگی، تشدد یا ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنایا گیا۔ حکومت کا یہ دعویٰ کہ لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لایا جائے گا، ایک مثبت بات ہو سکتی ہے، مگر تاریخی شواہد کی روشنی میں ایسا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وی بی ایم پی کا مطالبہ اصولی اور واضح ہے کہ جبری گمشدگیوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے، لاپتہ افراد کو سامنے لا کر انہیں منصفانہ ٹرائل کا حق دیا جائے، تاہم تنظیم کے خدشات محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ماضی کے ٹھوس تاریخی حقائق پر مبنی ہیں۔

Share This Article