بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک تاریخی تجارتی معاہدہ طے پا چکا ہے۔

یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈر لیئن نے ایکس پر لکھا کہ ’ہم نے مدر آف آل ڈیلز طے کر لی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دو ارب لوگوں کے لیے فری ٹریڈ زون بنایا ہے جس سے دونوں فریقین کو فائدہ ہو گا۔ یہ تو صرف شروعات ہے۔ ہماری سٹریٹیجک شراکت مزید مضبوط ہو گی۔‘

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا ہے جس کے تحت 27 یورپی ممالک پر مشتمل یونین اور انڈیا کے درمیان فری ٹریڈ یعنی کھلی تجارت ممکن ہو سکے گی۔

منگل کے روز مودی نے انڈیا انرجی ویک 2026 کے چوتھے ایڈیشن کی افتتاحی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کل انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان ایک بڑے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ لوگ اسے مدر آف آل ڈیلز قرار دے رہے ہیں۔‘

’یہ معاہدہ انڈیا کے 1.4 ارب لوگوں اور یورپی ممالک کے لاکھوں لوگوں کے لیے بے پناہ مواقع لاتا ہے۔ یہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے۔‘

انڈین وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ’یہ معاہدہ عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 25 فیصد اور عالمی تجارت کے تقریباً ایک تہائی کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ تجارت کے ساتھ ساتھ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کو مضبوط کرتا ہے۔‘

وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ ’یورپی یونین کے ساتھ یہ تجارتی معاہدہ برطانیہ اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی بھی تکمیل کرے گا۔‘

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے سے محصولات میں واضح کمی آئے گی اور ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی ملے گی۔

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے کیمیکلز، مشینری اور الیکٹرک آلات سمیت جہازوں پر تقریباً تمام محصولات ختم ہوں گے اور یہ کام بتدریج ہو گا۔

اس معاہدے کے نتیجے میں یورپی مصنوعات انڈیا میں سستی ہوں گی جیسا کہ گاڑیاں، مشینری اور زرعی آلات کیوںکہ درآمدی ڈیوٹی کم ہو جائے گی۔

تاہم زرعی شعبے کے ڈیری اور چینی کے شعبے کو اس معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں فریقین سکیورٹی ار دفاعی شراکت داری کے مسودے پر بھی کام کر رہے ہیں جن میں میریٹائم سکیورٹی، سائبر خطرات اور دفاعی مذاکرات جیسے امور شامل ہوں گے۔

یورپی یونین مصنوعات کے اعتبار سے انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں کے درمیان مجموعی طور پر سال 2024-25 کے دوران 136 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی جو کہ ایک دہائی کے دوران دگنی ہوئی ہے۔

انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات 2007 میں شروع ہوئے تھے مگر انھیں مارکیٹ تک رسائی اور ریگولیٹری مطالبات کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ مذاکرات ایک بار پھر جولائی 2022 میں شروع ہوئے تھے۔

سب سے غور طلب نکات میں انڈیا کی آٹو مارکیٹ اور زرعی مصنوعات تک رسائی اور کاربن سے جڑے ٹیرف تھے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حتمی معاہدہ دیکھ کر ہی ان امور کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس ڈی کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ وان در لیین 26 جنوری کو انڈیا کے رپبلک ڈے (یومِ جمہوریہ) کی تقریبات میں مہمان خصوصی تھے۔

رپبلک ڈے پر یورپی شخصیات کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کرنا انڈیا کی طرف سے ایک اہم سفارتی پیغام ہے اور وہ یہ کہ امریکہ کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف کے چیلنج کے بعد انڈیا دیگر دنیا کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

لندن میں واقع تھنک ٹینک چیٹھم ہاؤس سے منسلک چیٹیگج باجپائی کہتے ہیں کہ ’اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ انڈیا متنوع خارجہ پالیسی رکھتا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کا محتاج نہیں۔‘

یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب یورپ ایک نئے جیوپولیٹیکل چیلنج سے گزر رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

Share This Article