کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں گلیاں صرف پتھر اور اینٹوں سے نہیں بنی ہوتیں، بلکہ یہاں کی گلیاں تاریخ، سیاست اور مزاحمت کی کہانیاں اپنے اندر سموئے ہوتی ہیں۔ لیاری کی قدیم آبادی گل محمد لین بھی ایسی ہی ایک گلی ہے، جہاں سے ایک بار پھر جبری گمشدگی کی خبر نے شہر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ معروف بلوچ سیاسی کارکن زاہد بارکزئی کو 27 جنوری 2026 کی رات تقریباً دو سے ڈھائی بجے کے درمیان ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا گیا اور نامعلوم مقام منتقل کر دیا گیا۔ اہلخانہ کے مطابق زاہد بارکزئی بے گناہ ہیں اور ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے دروازے کھٹکھٹائے جا رہے ہیں، مگر جواب حسبِ روایت خاموشی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بارکزئی خاندان کو اس طرح کے کرب سے گزرنا پڑ رہا ہو۔ اس واقعے نے فوراً ذہن کو زاہد بارکزئی کے بھائی، عارف بارکزئی کی طرف موڑ دیا، جن کی پراسرار موت آج بھی ایک حل طلب سوال ہے۔ عارف بارکزئی، جو لیاری ہی کی اسی گل محمد لین میں 11 مارچ 1978 کو پیدا ہوئے، ایک ذہین طالبعلم، نظریاتی کارکن اور علم و ادب کے دلدادہ انسان تھے۔ ان کے والد محمد نسیم بارکزئی بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ملازم تھے اور عارف اپنے بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے۔
عارف بارکزئی نے سیاست کا آغاز بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے پلیٹ فارم سے کیا۔ وہ مارکسی وادی نظریے سے متاثر تھے اور سیاست کو محض نعرہ نہیں بلکہ فکری جدوجہد سمجھتے تھے۔ ان کی تعلیمی زندگی بھی اسی سنجیدگی کی عکاس تھی۔ انہوں نے میٹرک ایس ایم لیاری اسکول سے، انٹر ڈی جے سائنس کالج سے اور پھر کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ 2002 میں سویڈن چلے گئے، جہاں دلارنا یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشن شپ میں ماسٹر کیا، اور بعد ازاں 2006 میں اپسالا یونیورسٹی سے ایک اور ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے ناروے منتقل ہوئے، جہاں ان کی رہائش اوسلو کے ایک اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں تھی۔ 10 جنوری 2008 کو اسی ہاسٹل سے ان کی لاش ملی۔ پولیس کے مطابق وہ ہاسٹل کی گیارہویں منزل سے گرنے کے باعث جاں بحق ہوئے، مگر اہلخانہ اور قریبی دوست اس وضاحت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے مطابق یہ ایک پراسرار قتل تھا، جسے حادثے کا رنگ دیا گیا۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایک باشعور، نظریاتی اور متحرک طالبعلم، جس کے خواب اور منصوبے واضح ہوں، وہ اچانک ایسے انجام سے کیسے دوچار ہو سکتا ہے؟
جب 17 جنوری 2008 کو عارف بارکزئی کی میت اوسلو سے کراچی لائی گئی تو لیاری کے میوہ شاہ قبرستان میں ہزاروں سوگواروں نے انہیں سپردِ خاک کیا۔ یہ صرف ایک جنازہ نہیں تھا بلکہ ایک نظریے، ایک خواب اور ایک سوال کی تدفین تھی، جو آج بھی زندہ ہے۔ عارف کو کتابوں سے عشق تھا۔ اتوار کے دن ریگل کے فٹ پاتھوں سے پرانی کتابیں خریدنا ان کا معمول تھا۔ سیاست، تاریخ، فلسفہ، سائنس اور مذہب ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔ وہ سوال اٹھانے والا نوجوان تھا، اور شاید یہی سوالات کچھ حلقوں کو ناگوار گزرتے تھے۔
بارکزئی خاندان کی جڑیں مغربی بلوچستان کے علاقے سراوان اور پہرہ سے جا ملتی ہیں، جہاں سے وہ تقریباً دو صدی قبل ہجرت کر کے لیاری کراچی میں آباد ہوئے۔ لیاری، جو خود مزاحمت، سیاست اور قربانیوں کی علامت رہا ہے۔
آج زاہد بارکزئی کی جبری گمشدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وقت بدلا ہے، چہرے بدلے ہیں، مگر طریقہ واردات وہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ زاہد بارکزئی کہاں ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اختلافِ رائے کب جرم بن گیا؟
زاہد بارکزئی کی بازیابی اس نظام کا امتحان ہے جو خود کو جمہوری اور آئینی کہتا ہے۔ اگر عارف بارکزئی کی موت ایک سوال تھی، تو زاہد بارکزئی کی گمشدگی اس سوال کا تسلسل ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ سوال دبانے سے ختم نہیں ہوتے، وہ نسل در نسل منتقل ہو جاتے ہیں۔
٭٭٭