بلوچستان میں جبری گمشدگی کی پالیسی کو قانونی جوازدیدی گئی، حراستی مراکز کے قیام کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کی کٹھ پتلی حکومت نے پاکستانی فوجی حکام کے ایما پر جبری گمشدگی کی پالیسی کوقانونی جوازدیکر حراستی مراکز کے قیام کے رولز کی منظوری دے دی ہے۔

بلوچستان کی کابینہ نے بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم رولز 2025 کی منظوری دے دی۔

ان رولز کی منظوری کے بعد بلوچستان میں حراستی مراکز قائم کیے جا سکیں گے جہاں سکیورٹی اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے شبہے میں پکڑے گئے مشتبہ افراد کو رکھا جائے گا۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے مطابق کوئٹہ اور تربت میں ایسے دو حراستی مراکز قائم کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ بلوچستان کی کابینہ کا 22واں اجلاس سوموار کے روز سے جاری ہے جبکہ آج صبح اس قانون کے متعلق کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ایک بیان جاری کیا ہے۔

وزیراعلی بلوچستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کابینہ نے مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا ہے۔

اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ’مختلف لوگ لاپتہ افراد کے معاملے پر سیاست کرتے ہیں لیکن ہم نے یہ پروپیگنڈا مستقل بنیادوں پر دفن کر دیا ہے۔‘

وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مشتبہ افراد سے تفتیشی مراکز میں مجاز پولیس افسر کی نگرانی میں تفتیش کی جائے گی جبکہ مشتبہ افراد کے گھر والوں کو ان سے ملاقات کی اجازت ہو گی۔

سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کابینہ نے بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائیزیشن رولز 2025 اور بلوچستان وٹنس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 کی بھی منظوری دے دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’دہشت گردی کے مقامات میں مدعیان اور گواہان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ اہم قوانین اور رولز کی منظوری بلوچستان کابینہ کی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچستان میں جبری گمشدگیاں اور ماورائے آئین قتل کی پالیسی تین دہائیوں سے جاری ایک انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے اور بیرون ملک بلوچ ڈائسپورہ کی مثبت سفارت کاری کے باعث یہ مسئلہ اب عالمی سطح پراجاگر ہوا ہے جس سے اس غیر انسانی اور نسل کش عمل میں شریک پاکستانی فورسز سمیت حکومت پاکستان کو عالمی ممالک اور انسانی حقوق کے تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید اور دبائو کا سامنا ہے ۔جس کے ردعمل میں اب اس غیر قانونی اور غیر انسانی عمل کو قانون کے پیچھے چھپ کر جاری رکھنے کا جواز تلاش کرلیا گیا ہے۔

Share This Article