بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک کارروائی میں 5 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے دعوے کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تھا اور وہ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔
تاہم آزاد ذرائع سے تاحال ان افراد کے کسی عسکریت پسند تنظیم سے تعلق اور فائرنگ کے تبادلے میں مارے جانے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ترجمان نے اپنے دعوے میں مزید بتایا کہ سی ٹی ڈی کو اطلاع ملی تھی کہ عسکریت پسند دشت کے علاقے میں سبی-کوئٹہ شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس اطلاع پر علاقے کی نگرانی شروع کی گئی، جہاں عسکریت پسندوں نے اہلکاروں کو دیکھتے ہی فائرنگ کی۔
سی ٹی ڈی کے مطابق جوابی کارروائی میں پانچ عسکریت پسند مارے گئے جبکہ ان کے دیگر ساتھی فرار ہو گئے، جن کا تعاقب جاری ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ کارروائی کے دوران پانچ ایس ایم جیز، سات دستی بم اور تین موٹرسائیکلیں بھی برآمد کی گئیں۔
ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں سول ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں جبکہ واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔
اب تک مارے جانے والے افراد کی شناخت سامنے نہیں آئی ۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز اور سی ٹی ڈی کی کارروائیاں اکثر مشکوک رہی ہیں جہاں ان پر الزام ہے کہ وہ پہلے سے زیر حراست افراد کو قتل کرکے اسے مقابلہ ظاہر کرتے ہیں۔
بلوچستان میں ماضی میں بھی اس قسم کی کارروائیوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
سی ٹی ڈی کی ایسی متعددکارروائیاں ریکارڈ پر موجود ہیں جو جعلی ثابت ہوئیں جہاں پہلے سے جبری لاپتہ افراد کو ماورائے آئین قتل کرکے انہیں مسلح افراد دکھایا گیا اور بعدازاں ان کی باقائدہ شناخت لاپتہ افراد کے طور پر ہوگئی تھی۔