تربت وآوارن سے 3 نوجوان جبری لاپتہ،کوئٹہ ، گوادر اورتمپ سے 5 بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت اور آوارن کے علاقے گیشکور سے پاکستانی فورسز نے 3 نوجوانوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس کے بعد ان کاکوئی خبر نہیں ہے جبکہ کوئٹہ ، گوادر اورتمپ سے 5 جبری لاپتہ افراد بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔

تربت شہر سے 15 جنوری کو کیچ ہسپتال کے سامنے دن دہاڑے سیکورٹی فورسز اور ایم آئی کے اہلکاروں نےایک نوجوان کو جبری گمشدگی کانشانہ بنایا۔

نوجوان کی شناخت بل نگور کی رہائشی مہران بلوچ ولد بیگ محمد کے نام سے ہوگئی ہے جوایک 18 سال کا نرسنگ کاطالب علم ہے۔

اسی طرح ضلع آواران کی تحصیل گشکور کے مرکزی بازار سے 7 جنوری 2026 کو سیکورٹی فورسز نے عبدالباقی ولد امام بخش اور گنج بخش ولد میروک نامی 2 افراد کو دن دہاڑے بھرے بازار میں لوگوں کے سامنے اٹھا کر لاپتہ کر دیا ۔

اہلِ خانہ کے مطابق واقعے کو دس دن گزر جانے کے باوجود تاحال لاپتہ افراد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔

لاپتہ افراد کے لواحقین نے مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ عبدالباقی اور گنج بخش کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، جبری گمشدگی جیسے اقدامات انسانی حقوق اور آئین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

علاوہ ازیں ضلع کیچ کے تحصیل تمپ کے علاقے ہوت آباداور بالگتر سے 7 جنوری کو سیکورٹی فورسزکے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے 3 نوجوان صغیر ولد الہٰی بخش ، سلام ولد خالداور فضائل ولدمحمد رفیق بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔

اسی طرح ضلع گوادر کے تحصیل جیونی پانوان سے 13 جنوری کو سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری ہونے والے منیر ولد جان محمد اور دشت مستونگ سے 26 دسمبر 2025 کو جبری لاپتہ ہونے والے امجد علی ولد محمد سلطان 15 جنوری کو گوادر اور کوئٹہ سے بازیاب ہوگئے ۔

Share This Article