پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں اور ان کو 24 گھنٹے میں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈائریکٹر این سی سی آئی اے عدالت میں پیش ہوئے۔ جج افضل مجوکا نے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ایک شخص گرفتار نہیں ہوتا تو بلوچستان یا دیگر صوبوں میں کیا کریں گے۔
تفتیشی افسر عمران حیدر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے اور جان بوجھ کر گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔
این سی سی آئی اے حکام نے کہا کہ چار افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی تھی لیکن ملزمان ایڈریس پر موجود نہیں تھے۔ حکام نے مزید وقت دینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے گرفتاری کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے دونوں ملزمان کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ انھیں گرفتار کر کے کل ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے واضح کیا کہ وارنٹ گرفتاری پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے اور پولیس کو کل صبح گیارہ بجے تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔