بلوچستان کے ساحلی شہر علاقے گوادر میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ پنجگور سے ایک لاپتہ شخص کی تشدد زدہ لاش برآمدہوئی ہے۔
گوادر میں موبائل ایزی پیسہ شاپ میں ڈکیتی کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
واقعہ ایئرپورٹ روڈ پر بلال مسجد کے قریب پیش آیا۔
پولیس کے مطابق دو نقاب پوش ملزمان دکان میں داخل ہوئے اور لوٹ مار شروع کر دی۔ اس دوران ڈاکوؤں نے دکان میں موجود ایک کسٹمر پر فائرنگ کر دی، جو شدید زخمی ہوگیا۔ زخمی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان شاپ کیپر اور وہاں موجود کسٹمرز سے نقدی اور موبائل فونز لوٹ کر فرار ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ڈاکو ایک لاکھ بتیس ہزار روپے نقدی اور کسٹمرز کے موبائل فونز ساتھ لے گئے۔
ایس ایچ او گوادر محسن علی کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت سمیر الٰہی بخش کے نام سے ہوئی ہے، جو مند کا رہائشی تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب ضلع پنجگور میں گزشتہ روز لاپتہ ہونے والے نوجوان کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق، مقتول کی شناخت زوہیب ولد محمد اعظم کے طور پر ہوئی ہے جو پنجگور کے علاقے وشبود کا رہائشی تھا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ زوہیب کو منگل کے روز وشبود میں واقع میونسپل کمیٹی کے دفتر میں جاری ایک انٹرویو کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق اغوا کار گاڑی میں سوار تھے اور زوہیب کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
پولیس کے مطابق بدھ کی صبح زوہیب کی لاش بونستان مرگو ڈن کے علاقے سے برآمد ہوئی، اور لاش پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے۔
لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد ضلعی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔