حب اور جیونی سے پاکستانی فورسز ہاتھوں بلوچ خاتون سمیت 3 افراد جبری لاپتہ،تربت سے ایک بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے حب اور جیونی سے پاکستانی فورسز نے ایک اور بلوچ خاتون سمیت 3 افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جبکہ تربت سے ایک لاپتہ نوجوان ریاستی عقوبت خانے سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیاہے۔

بلوچستان کے صنعتی شہر حب سے پاکستانی فورسز نے ایک اور بلوچ خاتون کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

علاقائی ذرائع کے مطابق فاطمہ زوجہ نوروز اسلام، سکنہ پنجگور، کو فورسز نے اکرم کالونی میں واقع ان کے گھر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

واضح رہے کہ خاتون کے شوہر نوروز اسلام اس سے قبل تین مرتبہ فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار رہ چکے ہیں، جس سے خاندان کو مسلسل ریاستی جبر اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔

اس سے قبل 22 نومبر اور دسمبر 2025 کو بھی آواران کی رہائشی نسرینہ بلوچ بنت دلاور اور ہاجرہ نامی خاتون کو حب چوکی سے پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے آج شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، سال 2025 کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کم از کم 12 بلوچ خواتین اور بچیوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

بی وائی سی کے مطابق یہ واقعات کسی انفرادی یا اتفاقی نوعیت کے نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی جبر کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں جبری گمشدگی کو بطور اجتماعی سزا استعمال کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ضلع گوادر کے تحصیل جیونی کے علاقے میں فوج کی جانب سے کارروائی کے دوران2 افراد کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق لاپتہ افراد کی شناخت منیر بلوچ ولد جامل اور عارف بلوچ ولد لزوک کے نام سے ہوئی ہے، جو جیونی کے نواحی گاؤں پانوان کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے دونوں افراد کو ان کے گھروں سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس کے بعد ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں علاقے میں متعدد چھاپوں کے دوران کئی افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے بعض افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے آبسر کے آسکانی بازار کے رہائشی جبری لاپتہ پرویز احمد ولد سفر تین ماہ بعد ریاستی عقوبت خانے سے بازیاب ہو کر گھر پہنچ گیا ہے۔

پرویز احمد کو تین ماہ قبل فوج نے حراست کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا، تاہم منگل 13 جنوری کو انہیں بحفاظت ڈپٹی کمشنر کیچ کے دفتر پہنچا دیا گیا۔جس سے جبری گمشدگیو ں میں فورسز کے ملوث ہونے کے واضع ثبوت کی نشاندہی ہوتی ہے جس سے وہ برملا انکار کرتے رہتے ہیں۔

Share This Article