گوادر،جیونی ومستونگ سے 8 افراد جبری لاپتہ ، کوئٹہ سے ایک بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں میں شدت آگئی ہے ۔گوادر شہر اور جیونی سے 7 جبکہ مستونگ سے فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب کوئٹہ سے ایک جبری لاپتہ نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔

ضلع گوادر کے تحصیل جیونی سے 4 ،5 اور 6 جنوری 2026 کو فورسز نے صمید ولدعبدالحمید ،رضوان ولد رشیدبلوچ،آصف ولد عیسیٰ بلوچ،سراج ولد نوربخش،شبیر ولد عبداللہ بلوچ نامی 5 نوجوانوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام منتقل کردیا۔

اسی طرح 25 اور 27دسمبر 2025 کو شمس الدین ولد رستم بلوچ اور جہانگیر ولد مراد بلوچ نامی 2 نوجوانوں کو گوادر شہر میں آئی ایس آئی آفس اور گوادر ہوٹل سے فورسز نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔

مستونگ سے 26 دسمبر 2025 کوامجد علی ولد محمد سلطان نامی ایک نوجوان کو ایف سی نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کیا جس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ہے ۔

دریں اثناضلع کیچ کے مرکزی شہرتربت کے علاقے سنگ آباد کے رہائشی نوجوان عبید بلوچ ولد باہیان بلوچ جسے 16 اکتوبر2025 کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا گذشتہ روز 10 جنوری کو کوئٹہ سے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا ہے۔

Share This Article