بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون کے ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں چیئرمین کے عہدے پر ایک ایسے او ایس ڈی افسر کی تعیناتی کی گئی ہے جس کا شعبۂ تعلیم سے کوئی پیشہ ورانہ تعلق نہیں، جو مبینہ طور پر ادارے کو نام نہاد ریگولیشن کے نام پر ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر چلا رہا ہے اور اپنے من پسند افراد کو نوازنے میں ملوث ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان بورڈ کا امتحانی نظام اس وقت نقل کلچر، سفارش کلچر اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث شدید زبوں حالی کا شکار ہو چکا ہے۔ امتحانی مراکز میں من پسند تعیناتیاں، مخصوص گروہوں کو نوازنا اور اہل طلباء و طالبات کے ساتھ امتیازی سلوک ایک معمول بن چکا ہے، جس سے تعلیمی معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے متعدد کالجز عملاً فارم جمع کرنے اور امتحانی مراکز میں تبدیل ہو چکے ہیں، جو کہ بورڈ کی انتظامی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ نام نہاد ڈیجیٹلائزیشن کے نام پر کوئٹہ کے مخصوص امتحانی مراکز کو گزشتہ کئی سالوں سے ایک مافیا کے حوالے کیا جا چکا ہے جہاں عام طلباء کو نقل کے الزام میں تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ بااثر افراد کو کھلی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ویریفکیشن اور امتحانی فیس کے نام پر طلباء و طالبات پر بلاجواز مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ حال ہی میں رزلٹ آڈٹ کے نام پر قائم کی گئی کمیٹی میں بورڈ کے اپنے اہلکار اور من پسند افراد شامل ہیں، جس کا مقصد تمام طلباء کے نتائج کو مشکوک بنا کر بلیک میلنگ کا نیا سلسلہ شروع کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلباء و طالبات کو کاغذات جمع کرانے پر مجبور کرنا دراصل بورڈ آفس کی بدانتظامی کا اعتراف ہے۔ رزلٹ تیار کرنا، پیپر چیک کرنا اور نتائج جاری کرنا بورڈ آفس کی ذمہ داری ہے، نہ کہ طلباء کی۔ اگر کسی مرحلے پر کوتاہی ہوئی ہے تو اس کے ذمہ دار بورڈ کے اہلکار ہیں، جن کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے، نہ کہ طلباء کو سزا دی جائے۔
آخر میں بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے تمام معاملات کا غیر جانبدار عدالتی آڈٹ بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز کے ذریعے کرایا جائے تاکہ امتحانی نظام میں موجود بدعنوانی، سفارش کلچر اور انتظامی خرابیوں کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔