گیارہ سالوں سے جبری لاپتہ عبدالرحمن مری کی بازیابی کا مطالبہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں گذشتہ گیارہ سالوں سے جبری لاپتہ عبدالرحمن مری کے اہلخانہ نے ان کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

خاندان کے مطابق، 13 جنوری 2015 کو صبح تقریباً 9 بجے عبدالرحمن مری کو، ہزار گنجی مری کیمپ، کوئٹہ سے اٹھایا گیا۔ انہیں ایک دن کے لیے سریاب تھانے میں رکھا گیا، جہاں بعد ازاں ذاتی مچلکہ پر رہا کر دیا گیا۔

رہائی کے بعد دوسرے دن پھر عبدالرحمن مری کو دوبارہ تفتیش کے لیے فون کال کے ذریعے بلایا گیا۔ جب وہ تفتیش کے لیے سریاب تھانے گئے تو انہیں مزید دو دن تک تھانے میں رکھا گیا، جس کے بعد انہیں اسی تھانے سے لاپتہ کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے آج تک عبدالرحمن مری کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی اہلِ خانہ کو ان کی خیریت یا موجودگی سے آگاہ کیا گیا۔ اس طرح انہیں جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا، اور اب اس واقعے کو گیارہ (11) سال پورے ہونے کو ہیں۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر عبدالرحمن مری پر کوئی الزام تھا تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا، نہ کہ انہیں اس طرح لاپتہ کیا جاتا۔ گزشتہ گیارہ برسوں سے اہلِ خانہ شدید ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کر رہی ہے۔

آخر میں جبری لاپتہ عبدالرحمان مری کے اہلخانہ نے میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں، عدلیہ اور حکومتِ وقت کی توجہ اس نہایت سنگین انسانی مسئلے کی جانب مبذول کر اتے ہوئے کہا کہ ہم میڈیا کے ذریعے حکومت اور ریاستی اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ عبدالرحمن مری ولد محمد بخش کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو شفاف عدالتی کارروائی کے ذریعے اس کا فیصلہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک فرد یا خاندان کا نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی اور آئینی مسئلہ ہے۔ہمیں انصاف چاہیے ،ہمیں عبدالرحمن مری کی فوری بازیابی چاہیے۔

Share This Article