جبری لاپتہ ساجد احمد کی گرفتاری ظاہر، بی وائی سی پر دہشتگردی کے سنگین الزامات عائد

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ بلوچ اسکالر ساجد احمد کی گرفتاری ظاہر کردی گئی ہے ۔جبکہ بلوچ یجہتی کمیٹی ( بی وائی سی ) پر سنگین الزامات عائد کرکے اسے دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔

جمعرات کے روز کوئٹہ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ٹی ڈی بلوچستان کے ڈی آئی جی اعزاز گورایہ نے جبری لاپتہ ساجد احمد کی گرفتاری ظاہر کرکے دعویٰ کیا کہ ساجد احمد پنجگور سے تربت کی جانب بھاری مقدار میں اسلحہ منتقل کر رہا تھا۔

اعتزاز گورایہ نے الزام لگایا کہ عسکریت پسندد نوجوانوں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے پلیٹ فارم کو استعمال کر رہے ہیں۔

اعتزاز گورایہ نے کہا کہ سی ٹی ڈی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کے دوران ساجد احمد عرف شہاز نامی ایک شخص کو گرفتار کیا جو تربت کا رہائشی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس شخص نے اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی، پھر تربت یونیورسٹی میں پڑھانے سے پہلے تین سال تک زبیدہ جلال گورنمنٹ کالج میں کنٹریکٹ پر کام کیا۔

ان کے مطابق گرفتار ملزم سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کا مواد نشر کرنے میں بھی مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔

سی ٹی ڈی کے ڈی آئی جی نے مزید دعویٰ کیا کہ ساجد بی وائی سی کے ساتھ رہا اور اس کی قیادت سے مسلسل رابطے میں تھا۔ ساجد کے علاوہ، ہم نے تین دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا ہے جن کے خلاف ہم ایف آئی آر درج کر رہے ہیں۔

انہوں نے الزامات لگائے کہ ان میں سے ایک 18 سالہ سرفراز تھا جو خاران کا رہائشی ہے اور اسے پولیس کی ریس اور پولیو کے فرائض سرانجام دینے کا کام سونپا گیا تھا۔

اعتزاز گورایہ نے مزید کہاکہ اسے پہلےبی وائی سی میں شامل ہونے کے لیے بھی بنایا گیا تھا، جو ان کے احتجاج اور روڈ بلاکس میں شامل تھا۔

انہوں دعویٰ کیا کہ جس شخص نے اسے بی وائی سی میں شامل کیا وہ جہانزیب عرف مہربان تھا، جس کی عمر 20 سال تھی۔

اعتزاز گورایہ نے مزید دعویٰ کیاکہ جہانزیب نے 18 سالہ بیزن کو بھی بی وائی سی میں شامل کیا جس کے بعد اس نے بلوچ لبریشن آرمی (BLA) میں شمولیت اختیار کی۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ بیزن کا بھائی شفقت یار فائرنگ میں مارا گیا جب کھڈ کوچہ میں لیویز فورس پر حملہ ہوا۔

یاد رہے کہ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم ساجد احمد کو گزشتہ سال دسمبر میں پنجگور سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔

اہلِ خانہ کے مطابق ساجد احمد گھر واپس آ رہے تھے کہ انہیں راستے میں ہی جبری طور پر اٹھا لیا گیا۔

ساجد احمد کو بلوچی ادب سے گہری دلچسپی ہے اور وہ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ایک اسکالر ہیں۔ اہلِ خانہ نے ان کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم آج کی پریس کانفرنس میں ساجد احمد کی گرفتاری کے مقام کی وضاحت نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدہ افراد پر جھوٹے مقدمات قائم کیے جانے اور ماورائے عدالت قتل کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

Share This Article