تربت: ضلع کیچ میں بڑھتی بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے خلاف احتجاجی ریلی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال، بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف آل پارٹیز کیچ کی قیادت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی اور جلسے کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، تاجر برادری، وکلاء، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور سول سوسائٹی نے مشترکہ طور پر شرکت کی۔

احتجاجی ریلی میں ہزاروں مرد و خواتین شریک ہوئے۔

احتجاجی ریلی آپسر بازار سے شروع ہوئی جو شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب تربت پہنچی اور بعد ازاں شہید فدا چوک پر جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔

ریلی اور جلسے میں بلیدہ، زامران، مند، تمپ اور گردونواح کے علاقوں سے بھی عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ کیچ میں بدامنی اور اغوا برائے تاوان کے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اغوا شدہ نوجوانوں حسیب حاجی یاسین اور شاہ نواز گل جان کو فوری اور بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر کیچ کو بدامنی کی طرف دھکیلنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں تاہم کیچ کے باشعور عوام ان سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مل کر تمام متعلقہ اداروں سے رجوع کیا گیا مگر ہر ادارہ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہا ہے جب کہ عوام کا تحفظ ریاست اور اس کے اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

آل پارٹیز کیچ کے کنوینر نواب خان شمبیزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی ریلی کا مقصد کیچ میں حالیہ اغوا برائے تاوان کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف آواز بلند کرنا ہے جو انتہائی تشویش ناک صورت اختیار کر چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مغوی حسیب یاسین اور شاہ نواز گل جان کو بازیاب نہ کرایا گیا تو 7 جنوری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔

کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ سید مجید شاہ نے کہا کہ اغوا برائے تاوان کے واقعات قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیچ بار کونسل نے واقعے کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے اور وکلاء متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

سابق نگران وزیر اور غفور احمد بزنجو نے کہا کہ حالیہ بدامنی کے واقعات نے عوام کو شدید عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے، ریاست کو چاہیے کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرے۔

سابق سینیٹر اسماعیل بلیدی نے کہا کہ مکران بالخصوص کیچ کے عوام شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ روزگار کے ذرائع اور کاروبار متاثر ہو چکے ہیں اب عوام کو جینے کے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاروباری طبقے کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اغوا برائے تاوان کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔

اس موقع پر بی این پی عوامی کے مرکزی نائب صدر ظریف زدگ، بی این پی کے رہنما ڈاکٹر غفور بلوچ، جمعیت علمائے اسلام کیچ کے رہنما مولانا عبدالحفیظ مینگل، مرکزی جمعیت اہل حدیث کیچ کے امیر مولانا سعید احمد تگرانی، بی ایس او پجار کے چیئرمین بوہیر صالح ایڈووکیٹ سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

احتجاجی جلسے میں پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن، کیچ بار ایسوسی ایشن، بلوچستان بار کونسل، مکران بار کونسل کے وکلاء، مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں، متاثرہ خاندانوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Share This Article