بلوچستان کے مرکزی کوئٹہ اور گوادر سے پاکستانی فورسز نے ایک کمسن 13 سالہ طالب علم سمیت 4 نوجوانوں کوحراست میں جبری لاپتہ کردیا جس کے بعد ان کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔
کوئٹہ کے علاقے کلی قمبرانی میں فورسز کی جانب سے ایک کمسن طالب علم کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اہلِ علاقہ اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
کلی قمبرانی سے تعلق رکھنے والے 13 سالہ طالب علم گہرام بلوچ ولد فیض محمد کو 4 جنوری 2026 کی شب تقریباً ایک بجے فورسز نے ان کے گھر سے اٹھایا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ گہرام بلوچ ایک اسکول کا طالب علم ہے اور اس کے خلاف کسی قسم کا مقدمہ یا الزام درج نہیں ہے۔
لواحقین کے مطابق واقعے کے بعد سے گہرام بلوچ کا کوئی پتہ نہیں چل سکا، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی گرفتاری یا حراست کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔
اہلِ خانہ نے شدید ذہنی اذیت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کمسن بچے کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔
دوسری جانب ساحلی شہر گوادر کی تحصیل جیوانی کے علاقے پانوان سے فورسز نے 3 نوجوانوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
جبری لاپتہ کئے گئے نوجوانوں کی شناخت رضوان عبدالراشید، صمد اور صابر امام کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
لواحقین نے اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہم تمام انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی اور میڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں، تینوں لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے اس سلسلے کو روکا جائے۔