اشاعتی ادارے کے جبری لاپتہ ڈائریکٹر چنگیز بلوچ بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

کراچی کے معروف اشاعتی ادارے علم و ادب پبلشر کے ڈائریکٹر چنگیز بلوچ (چنگیز ساحر) تقریباً پانچ ماہ کی جبری گمشدگی کے بعد بازیاب ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان کی بازیابی کے بعد انہیں اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، تاہم یہ تاحال معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کہاں اور کن حالات میں رکھا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 21 جولائی 2025 کو کراچی کے اردو بازار میں واقع علم و ادب کے دفتر پر صبح کے وقت پاکستانی سیکورٹی فورسز نے چھاپہ مارکر بک مال سینٹر کی پہلی اور دوسری منزل پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے اور ریکارڈ ضائع کرنے کے بعد تیسری منزل پر موجود دکان سے چنگیز بلوچ کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

اہلِ خانہ نے چنگیز بلوچ کی بازیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب کیا جائے گا۔ ادھر ادبی و سماجی حلقوں نے بھی ان کی واپسی کا خیرمقدم کیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ اس لیے بھی تشویش ناک سمجھا جا رہا تھا کہ اسی اشاعتی ادارے کے سابق ڈائریکٹر لالا فہیم بلوچ کو بھی تین سال قبل اسی دفتر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جو تین ماہ بعد بازیاب ہوئے تھے۔

علم و ادب کراچی کا ایک معروف اشاعتی ادارہ ہے، جو اردو، بلوچی اور دیگر علاقائی زبانوں میں کتابوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ نایاب اور تحقیقی کتب کم قیمت پر فراہم کرنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

ادارے سے وابستہ ادیبوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چنگیز بلوچ کی جبری گمشدگی کے واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

Share This Article