پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری لاپتہ ہونے والے 6 افراد بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے ۔
بازیاب ہونے والوں میں فرید احمد کرد ولد محمد رفیق کردسکنہ مستونگ ،طالبعلم شہزاد منیر ولد منیر احمد سکنہ ہیرونک کیچ،معروف خان ولد گل شیرسکنہ کوہلوامان ولد طاہرحسین سکنہ سنگانی سر تربت کیچ،ماسٹر رفیق ولد روش سکنہ سنگابادتجابان کیچ،زبیرولد خداداد سکنہ سنگابادتجابان کیچ کے ناموں سے ہوگئی ہے ۔
فرید احمد کرد کو دو دسمبر 2025 کو کولپور بائی پاس دشت مستونگ سے ان کے ہوٹل سے فورسز نے گرفتار کر کے جبری لاپتہ کردیا تھا۔
گزشتہ روز فرید کرد کی ہمشیرہ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے قائم احتجاجی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرید کرد اور ندیم کرد کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اسی طرح طالبعلم شہزاد منیر جسے 5 دسمبر کو کوئٹہ میں جبری لاپتہ کیا گیا تھاگذشتہ روز 27دسمبر کو کوئٹہ سے بازیاب ہوگئے ۔ اسکی گمشدگی کے خلاف اہلِ خانہ نے ایم 8 شاہراہ پر دھرنا دے کر ٹریفک کی روانی معطل کر دی تھی، جس کے باعث شاہراہ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی تھیں۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر کیچ موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کیے، جس کے دوران انہوں نے طالبعلم کی بازیابی کی یقین دہانی کرائی تھی۔
ڈی سی کی یقین دہانی کے بعد اہلِ خانہ نے دھرنا ختم کرتے ہوئے شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا تھا۔ بعد ازاں ضلعی انتظامیہ کی کوششوں سے شہزاد منیر کی بازیابی عمل میں آئی۔