برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کی پولیس اور استغاثہ حکومت سے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر غیر ملکی حکومت کو یقین ہو کہ کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو اُنھیں چاہیے کہ وہ برطانوی پولیس کو تمام متعلقہ مواد یا شواہد فراہم کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی مواد جو برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہو، پولیس اس کا جائزہ لے کر مجرمانہ تحقیقات شروع کر سکتی ہے۔
اس سے قبل پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی تھی کہ برطانوی شہر بریڈ فورڈ میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر احتجاج کے دوران پاکستان کی عسکری قیادت کے خلاف ‘اشتعال انگیز’ تقاریر پر برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری کیا گیا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق ڈپٹی ہیڈ آف مشن میٹ کینل کو جمعے کو دوپہر دو بجے دفتر خارجہ طلب کر کے واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
ڈیمارش میں برطانوی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر پاکستانی قیادت کو دی جانے والی دھمکیوں کا نوٹس لیں اور اپنی زمین پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
اس سے قبل پاکستان کی حکومت نے برطانوی حکام کو لکھے گئے ایک خط میں بریڈ فورڈ میں ہونے والے ایک مظاہرے میں شرانگیز بیانات پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ‘جیو نیوز’ سے گفتگو میں برطانوی حکام کو لکھے جانے والے خط کی تصدیق کی ہے۔
اُن کے بقول خط میں برطانوی حکام سے کہا گیا ہے کہ بریڈ فورڈ میں احتجاج کے دوران پاکستان کی ‘مسلح افواج کے سربراہ کو دھمکانے’ کے واقعے پر ایکشن لیا جائے۔
پاکستانی حکام کے مطابق اس خط میں ایک خاتون کی جانب سے شر انگیز بیانات پر مبنی ویڈیو کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں وہ مبینہ طور پر پاکستان کی فوجی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہہ رہی ہیں کہ ‘ایک جہاز کریش ہونے سے مارا گیا تھا اور دوسرا کار میں بم پھٹنے سے مرے گا۔