بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6105ویں روز بھی جاری رہا۔
اس دوران جبری لاپتہ ہونے والے قمبر خدابخش کے لواحقین نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کرکے وی بی ایم پی سے رابطہ کیا۔ لواحقین کے مطابق بلیدہ سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ کمسن قمبر خدابخش کو اکتوبر 2025 میں مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز نے بلیدہ میں ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد سے وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ ساڑھے پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود قمبر خدابخش کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہیں۔
وی بی ایم پی کی جانب سے لواحقین کو یقین دہانی کرائی گئی کہ تنظیم قمبر خدابخش کے کیس کو قانونی طریقے سے انصاف کی فراہمی کے لیے قائم اداروں کے سامنے پیش کرے گی اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہان سے اپیل کی ہے کہ وہ کمسن قمبر خدابخش کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنا کر ان کے خاندان کو ذہنی کرب اور اذیت سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔