جھاؤ ، تربت وچاغی میں فورسز پر حملے، ایک اہلکار ہلاک، سرکاری اسلحہ اور گاڑی ضبط کئے، بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں جھاؤ اور تربت کے علاقوں میں پاکستانی فورسز اور پولیس پر حملوں میں ایک اہلکار کی ہلاکت اور تربت و چاغی میں سرکاری اسلحہ اور گاڑی ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 6 مارچ 2026 کی شام جھاؤ کے علاقے گزی میں قائم فوجی چیک پوسٹ پر مامور اہلکار کو اسنائپر رائفل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مذکورہ اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
 
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں 14 مارچ 2026 کو سرمچاروں نے تربت ایئرپورٹ کی سیکیورٹی پر مامور فرنٹیر کور (ایف سی) کی چوکی پر دستی بم سے حملہ کیا۔ دستی بم چوکی کے اندر زوردار دھماکے سے پھٹا، جس سے وہاں موجود اہلکاروں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ اسی روز ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے تربت شہر میں چوگان کنڈگ کے مقام پر پولیس کی ایک گشتی ٹیم کو گھیرے میں لے کر اہلکاروں کو غیر مسلح کر دیا، اور ان کے قبضے سے تین سرکاری بندوقیں بمع میگزینز اور سرکاری گاڑی تحویل میں لے لیا۔ تاہم تنظیم نے انسانی ہمدردی کے پیشِ نظر، مذکورہ پولیس اہلکاروں کو تنبیہ کر کے بحفاظت رہا کر دیا۔
 
بیان میں کہا گیا کہ ایک اور کاروائی میں سرمچاروں نے 13 مارچ 2026 کو چاغی کے علاقے وڈھ کے مقام پر معدنیات تلاش کرنے والی ایک کمپنی کے اہلکاروں کو حراست میں لے لیا، ان کے پاس موجود ایک بندوق کو قبضے میں لے کر ضبط کرلیا، اور ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا کر عملے کے ارکان کو تنبیہ کرکے انسانی ہمدردی کے پیش نظر بحفاظت رہا کردیا۔ 
 
ترجمان کے مطابق معدنیات کی تلاش اور اخراج سے وابستہ کمپنیوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ بلوچستان کے معدنی وسائل سے متعلق اپنی سرگرمیاں فوری طور پر ترک کر دیں، بصورتِ دیگر وہ اپنے جانی و مالی نقصان کی خود ذمہ دار ہوں گی۔
 
انہوں نے آخر میں کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ جھاؤ، تربت اور چاغی میں دشمن فورسز اور معدنیات تلاش کرنے والے کمپنی کے عملے پر حملے اور ان سے سرکاری اسلحہ ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

Share This Article