بلوچستان کے ضلع کیچ میں 2 خواتین سمیت 4 افراد کی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے خلاف دھرنے کے باعث گوادر اور کوئٹہ کے درمیان سی پیک شاہراہ جمعرات کو تیسرے روز بھی بند رہی۔
ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ان افراد کی بازیابی کے لیے خواتین اور بچوں نے کرکی تجابان کے علاقے میں دھرنا دے رکھا ہے جس کی وجہ سے شاہراہ پر بڑی تعداد میں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیںاور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات دوسرے روز بھی ناکام رہے۔
مظاہرین کے مطابق دو خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔
اہلِ خانہ نے واضح اعلان کیا ہے کہ ان لاپتہ افراد کی بازیابی تک احتجاج اور ہڑتال ختم نہیں کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر تربت محمد حنیف کبزئی اور علاقائی معتبرین نے مظاہرین سے مذاکرات کیے، تاہم کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچا جا سکا۔
روڈ بلاک ہونے کے باعث مال بردار اور مسافر گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہے، جبکہ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔