بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے گذشتہ دنوں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے والے بلوچ خاتون اپنے 2 سالہ بیٹے کے ساتھ بازیاب ہوگیا ہے۔
ماں بیٹے کی شناخت عذرہ بلوچ بنت عطا محمد اور براہمدغ کے نام سے ہوئی تھی۔
ماں بیٹے کو 18 دسمبر 2025 بروز جمعرات کور ات 10 بجے ایف سی اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے حب چوک میں واقع دارو ہوٹل، زہری گوٹ میں ایک گھر پر چھاپہ مارکر بیٹے سمیت لاپتہ کیا تھا۔
عذرہ بلوچ اور براہمدغ گذشتہ روز 20 دسمبر کو بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 22 نومبر 2025 کو بھی آواران کی رہائشی 15 سالہ لڑکی نسرین بلوچ بنت دلاور کو حب چوک میں واقع دارو ہوٹل سے فو رسز نے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا جس کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔اور نہ ہی اب تک اس کی ایف آئی درج کرلی گئی ہے ۔
اس پر مستزاد گذشتہ روز اسی علاقے میں مزید خیرالنسا اور ہانی نامی2 خواتین کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا جن پر اب فورسز حکام خودکش بمبار،خودکش حملے کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کا الزام لگا رہی ہے ۔