انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستانی ریاست کتنی وحشی ہے، منظور پشتین

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے اقوام متحدہ کے جنیوا میں سالانہ اجلاس کے دوران ایک بین الاقوامی کانفرنس بعنوان "بلوچستان: اٹھہتر سالہ قبضہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور عالمی سطح پر احتساب کی ناکامی” منعقد کی گئی۔

یہ بی این ایم کی عالمی سطح پر گیارہویں بین الاقوامی کانفرنس تھی، جو رائل ہوٹل جنیوا کے روسو کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس میں سیاستدانوں، تجزیہ کاروں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور ماہرین نے شرکت کی۔

یہ کانفرنس بلوچ مسئلے کے سیاسی اور انسانی پہلوؤں پر بحث کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر آگاہی اور یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔

کانفرنس میں ماڈیریٹر کے فرائض سلیم بلوچ اور مہرہ بلوچ نے انجام دئیے۔

بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے کہا بلوچ اپنے مسائل، لوٹ مار، ناانصافی، قتل و غارت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، تو انہیں غدار قرار دیا جاتا ہے۔ نہ صرف ان کے گھروں اور حقوق کے محافظوں کو مثال کے طور پر سزا دی جاتی ہے، بلکہ بلوچ شہریوں کو بھی ان کے اپنے وطن، بلوچستان کی زمین پر قتل کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نسیم بلوچ اور ان کے ساتھی گمشدہ افراد اور اصل قتل کے اعداد و شمار پیش کریں گے، تب کوئی بھی آسانی سے یہ جان سکتا ہے کہ یہ پاکستانی ریاست کتنی وحشی ہے۔

Share This Article