ہماری قومی ہدف آزادی ہے، ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، ڈاکٹر نسیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے اقوام متحدہ کے جنیوا میں سالانہ اجلاس کے دوران ایک بین الاقوامی کانفرنس بعنوان "بلوچستان: اٹھہتر سالہ قبضہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور عالمی سطح پر احتساب کی ناکامی” منعقد کی گئی۔ یہ پارٹی کی عالمی سطح پر گیارہویں بین الاقوامی کانفرنس تھی، جو رائل ہوٹل جنیوا کے روسو کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں سیاستدانوں، تجزیہ کاروں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور ماہرین نے شرکت کی۔

یہ کانفرنس بلوچ مسئلے کے سیاسی اور انسانی پہلوؤں پر بحث کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر آگاہی اور یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔

کانفرنس میں ماڈیریٹر کے فرائض سلیم بلوچ اور مہرہ بلوچ نے انجام دئیے۔

عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ آج ہم ایک بار پھر بلوچ عوام کے خلاف اٹھہتر برسوں سے جاری ظلم، بربریت، نسل کشی، قومی شناخت سے انکار اور قومی وسائل کے استحصال کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور اپنی قومی آزادی کی جدوجہد میں ایک اہم سنگِ میل کو نشان زد کرنے کے لیے، یہاں جنیوا میں اکھٹے ہیں، جہاں اقوامِ متحدہ قائم ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہم ایک ایسے ہال میں جمع ہیں جس کا نام عظیم فلسفی اور ماہرِ عمرانیات Jean- ژاں ژاک روسوکے نام پر رکھا گیا ہے، جن کا معروف قول ہے”انسان آزاد پیدا ہوتا ہے، مگر ہر جگہ زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔” ہم، بلوچ، بطور انسان، بطور فرد اور بطور ایک قوم آج محکومی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ، اقوام کی ایک تنظیم ہے۔ اگرچہ بلوچ آج ایک ریاست نہیں ہےلیکن ہم ایک قوم کی ہر تعریف، معیار، اور پیمانے پر پورا اترتے ہیں۔ آج ہمارے پاس ریاست نہیں ہے، مگر ماضی میں ہمارے پاس ایک ریاست تھی، اور ہمیں یقین ہے کہ مستقبل میں ایک بار پھر ہماری اپنی ریاست ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بطور چیئرمین بلوچ نیشنل موومنٹ، میری یہ ذمہ داری ہے کہ میں دنیا سے مخاطب ہو کر واضح طور پر کہوں کہ بلوچ قوم آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے۔ ہم اپنی اجتماعی بقا کے لیے خون بہا رہے ہیں۔ اگر آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں تو ہماری تکالیف میں کمی آ سکتی ہے اور اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہمارے پاس اپنے مقصد کے لیے مرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ میں واضح کرتا ہوں کہ بلوچ نیشنل موومنٹ کا ہدف اور مقصد بالکل صاف ہے اور وہ بلوچستان کی آزادی ہے یہ ہماری اپنی سرزمین پر ہمارا بنیادی حق ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کا بھی ایک اساسی حق ہے۔

ہم، جو یہاں اپنی سرزمین سے ہزاروں کلومیٹر دور جمع ہیں، اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پُرعزم ہیں جسے 1948 میں طاقت اور تشدد کے ذریعے کچل دیا گیا تھا۔ ہماری سیاست محض احتجاج نہیں ہے، یہ ایک زندہ قوم، بلوچ کی قومی تحریک اور مقدمہ ہے۔ یہ وہ مقدمہ ہے جس کے لیے ہمارے ہزاروں نوجوان مرد و خواتین غیر اعلانیہ حراستی مراکز میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔ وہ تکلیف سہہ رہے ہیں، وہ مر رہے ہیں اور ان کی مسخ شدہ لاشیں واپس کی جا رہی ہیں۔

پاکستان نے حال ہی میں اجتماعی سزا کی ایک پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ میں واضح کر دوں کہ اگرچہ یہ اعلان حالیہ ہے، مگر اس پر عمل درآمد گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے۔ ہماری پوری قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے، ہمارے کیدرز اور اراکین کو اس کوشش میں قتل کیا گیا ہے کہ ہمیں اپنی جدوجہد ترک کرنے پر مجبور کیا جائے لیکن قومی آزادی کی راہ ناقابلِ واپسی ہے، بلوچ قوم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ آج ہم اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں کہ بلوچ قوم زندہ ہے، متحد ہے اور آزادی کے عزم میں ثابت قدم ہے۔

Share This Article