بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے اقوام متحدہ کے جنیوا میں سالانہ اجلاس کے دوران ایک بین الاقوامی کانفرنس بعنوان "بلوچستان: اٹھہتر سالہ قبضہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور عالمی سطح پر احتساب کی ناکامی” منعقد کی گئی۔
یہ بی این ایم کی عالمی سطح پر گیارہویں بین الاقوامی کانفرنس تھی، جو رائل ہوٹل جنیوا کے روسو کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس میں سیاستدانوں، تجزیہ کاروں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور ماہرین نے شرکت کی۔
یہ کانفرنس بلوچ مسئلے کے سیاسی اور انسانی پہلوؤں پر بحث کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر آگاہی اور یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئی۔
کانفرنس میں ماڈیریٹر کے فرائض سلیم بلوچ اور مہرہ بلوچ نے انجام دئیے۔
بی این ایم کے عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور بلوچستان نیشنل پارٹی( بی این پی) کے صدر سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ حالیہ نہیں ہے۔ یہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے۔ یہ ایک طویل تاریخ کا نتیجہ ہے، ایک ایسی تاریخ جو پاکستان کی بنیاد کے ساتھ ہی شروع ہوئی۔ 1948 میں محمد علی جناح اور بلوچستان کی قیادت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔
اختر مینگل نے کہاکہ یہ معاہدہ بالکل واضح تھی کہ بلوچستان کو خودمختاری، جس میں صرف تین أمور یعنی خارجہ امور، دفاع اور کرنسی پاکستان کے حوالے کیے جانے تھے مگر یہ معاہدہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ چند ہی مہینوں میں خانِ قلات، میراحمد یار خان کو گرفتار کر لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت سوں کے لیے یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا، یہ معاہدے کی پہلی خلاف ورزی تھی اور جب کسی معاہدے کی پہلی ہی شق کو پورا نہ کیا جائے تو اس کے بعد آنے والی ہر چیز کی بنیاد ہل جاتی ہے۔