بلوچستان بھر میں مربوط مسلح کارروائیاں جاری ہیں۔ گزشتہ شب قلات کے شہر منگچر میں چار گھنٹوں تک مختلف مقامات پر شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز کے مرکزی کیمپوں، پوسٹس اور چوکیوں کو 9 سے زائد مقامات پر نشانہ بنایا گیا۔
ان میں تحصیل کیمپ، بازار کیمپ، ڈور کیمپ، کالج میں قائم کیمپ، بازار میں قائم چار پوسٹیں اور منگچر کے داخلی راستوں پر قائم چوکیاں شامل ہیں۔
فورسز کی کمک کے لیے پہنچنے والی ایک بکتر بند گاڑی کو بھی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور بھاری اور خودکار اسلحے سے لیس تھے، جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق فورسز کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دوسری جانب سوراب اور گرگینہ کے علاقوں میں بھی تین مختلف واقعات میں پاکستانی فورسز کی گاڑیوں اور پوسٹوں پر حملے کیے گئے۔
سوراب کے علاقے بینچہ میں گھات لگائے مسلح افراد نے فورسز کی دو گاڑیوں کو راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اسی طرح مستونگ کے علاقے کردگاپ اور گرگینہ میں گریڈ اسٹیشن اور کوتل کے مقامات پر قائم دو پوسٹوں پر بھی حملے کیے گئے۔
ادھر بلوچ آزادی پسندوں نے کوئٹہ تفتان مرکزی شاہراہ پر چیک پوائنٹس قائم کرکے گھنٹوں تک ناکہ بندی کی۔
علاقائی ذرائع کے مطابق اس دوران اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ چار گھنٹوں سے زائد جاری رہا۔
بلوچستان بھر میں جاری مسلح حملوں کی نئی لہر کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کرتے ہوئے ایک مختصر بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اب تک جھل مگسی، کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، واشک، دالبندین، خاران، پنجگور اور کیچ سمیت مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کے کیمپوں، عسکری تنصیبات اور قابض فوج کے ‘ڈیتھ اسکواڈز’ کے ٹھکانوں پر 30 سے زائد حملے کیئے جاچکے ہیں۔