ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے معروف انسانی حقوق کے رہنما، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بانی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف جدوجہد کی علامت ماما عبدالقدیر بلوچ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ماما عبدالقادر بلوچ نے 2009 میں اپنے بیٹے کے اغوا اور بعد ازاں قتل کے بعد جبری گمشدگیوں کے خلاف منظم جدوجہد کا آغاز کیا اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک مضبوط آواز بن کر سامنے آئے۔
بیان میں کہا گیا کہ ماما عبدالقدیر بلوچ نے 2013 میں کوئٹہ سے اسلام آباد تک تاریخی لانگ مارچ کی قیادت کی، جس کا مقصد جبری گمشدگیوں کے معاملے پر ریاستی اداروں سے جوابدہی کا مطالبہ کرنا تھا۔ اس لانگ مارچ نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی پامالیوں کی جانب توجہ مبذول کرائی۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کہا کہ ماما عبدالقدیر بلوچ کی جدوجہد اور قربانیاں ان بے شمار خاندانوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی جن کے دکھ درد میں وہ برسوں شریک رہے۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ریاست کو چاہیے کہ وہ ان حقوق کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کرے، جن کے لیے ماما عبدالقدیر بلوچ نے دہائیوں تک جدوجہد کی۔
ایچ آر سی پی نے مرحوم کے اہلِ خانہ، ساتھیوں اور تمام متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماما عبدالقدیر بلوچ کا نام پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد کی تاریخ میں ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔