پشاور یونیورسٹی کے 2 جبری لاپتہ طلبا کی بازیابی کے لیے دھرنا جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے پشاور یونیورسٹی کے 2 طلبا کی جبری گمشدگی کے خلافچوتھے روز بھی احتجاجی دھرنا جاری ہے جس میں دونوں طلبا کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

دونوں طالب علم عدنان وزیر اور حبیب وزیر 12 نومبر کو پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں کے ساتھ جرگے میں شرکت کے بعد واپس آ رہے تھے کو جبری لاپتہ کیا گیا۔

پشاور یونیورسٹی میں چار روز سے جاری احتجاجی دھرن کسی فیڈریشن یا سوسائٹی کی جانب سے نہیں بلکہ یونیورسٹی کے طلبا کی طرف سے ہو رہا ہے۔

طلبا مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس احتجاج میں یونیورسٹی کی تمام طلبا تنظیمیں شامل ہیں ۔اس احتجاج کی وجہ سے کیمپس کے اندر واقع بیشتر دکانیں، کینٹین اور بازار بند ہیں جبکہ مختلف شعبہ جات میں تدریسی عمل بھی متاثر ہوا ہے۔

یونیورسٹی کے ترجمان نعمان خان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے دھرنے کے حوالے سے تمام انتظامات کر رکھے ہیں جبکہ 22 دسمبر سے یونیورسٹی نے موسم سرما کی چھٹیوں کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

جبری لاپتہ طلبا عدنان وزیر اور حبیب وزیر پشاور یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس اور انٹرنینشل ریلیشنز ڈپارٹمنٹ کے طالب علم ہیں اور ایک ماہ سے زیادہ وقت ہو گیا ہے کہ ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔

یاد رہے کہ صوبے میں امن کے قیام کے حوالے سے 12 نومبر کو صوبائی اسمبلی میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا تھا جس میں تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔ اس جرگے سے واپسی پر پی ٹی ایم کے رہنماؤں سمیت سات افراد کو پشاور کے گنجان آباد علاقے سے نامعلوم افراد زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

لاپتہ ہونے والوں میں ان دونوں طالبعلموں کے علاوہ پی ٹی ایم کے رہنما حنیف پشتین، نوراللہ ترین اور گوہر وزیر کے علاوہ دیگر دو افراد بھی تھے۔

دھرنے کے شرکا کا موقف تھا کہ جرگے میں شریک تمام افراد کی شرکت اور بحفاطت اپنے گھروں تک واپسی کی ذمہ داری جرگہ منتظمین کی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ جرگہ صوبائی حکومت کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا لیکن وہ شرکا کو تحفظ فراہم نہیں کر سکے اور ایک ماہ سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود انھیں منظر عام پر نہیں لایا جا سکا ہے۔

Share This Article