بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے بلوچستان سے ایک حملے کے دوران حراست میں لئے گئے پاکستانی فوج کی اہلکار کی تصویر جاری کردی ہے ۔
تنظیم نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے ایک مختصر ای میل میں مذکورہ اہلکار کی تصویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے جنگجوؤں نے مستونگ، دشت آپریشن کے دوران ظفر اللہ ولد جھنڈا خان پاکستانی فوج کے اہلکار کو گرفتار کر لیا۔
بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ سات دسمبر کو مستونگ کے علاقے دشت میں زہری گٹ کے مقام پر سرمچاروں نے دشمن اہلکاروں پر اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا جب وہ مقامی بستی کی جانب پیش قدمی کی کوشش کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں قابض فوج کے 8 اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ سرمچار دشمن کے ایک اہلکار سپاہی ظفر اللہ ولد جھنڈا خان کو حراست میں لینے میں کامیاب ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کے دوران دشمن نے ہیلی کاپٹروں، کواڈ کاپٹروں اور سرویلنس سسٹم کا استعمال کیا لیکن سرمچاروں نے بھرپور حکمت عملی کے ساتھ دشمن کے دو کواڈ کاپٹر اور ایک سرویلنس کیمرے کو مار گرایا۔ یہ جھڑپ دو گھنٹوں سے زائد جاری رہی جس میں سرمچار داد خدا مری عرف ریحان شدید زخمی ہوئے۔ ساتھیوں نے انہیں محفوظ مقام تک منتقل کرنے کی پوری کوشش کی لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ شہید ہوگئے۔