قومی آزادی ہمارا حق نہیں، فیصلہ ہے، قبضے کے ہر منصوبے کو قومی قوت سے روکیں گے، خلیل بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے سابق چیئرمین خلیل بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‏بلوچ قومی تاریخ مزاحمت اور قیمت ادا کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ آج کا بلوچ جہدکار ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ شعور، نظم اور بے خوفی کے ساتھ استعماریت کی خلاف اور قومی بقا کی کے لیے برسرپیکار ہیں۔ بلوچ فرزندوں نے واضح اعلان کردیا ہے کہ قومی آزادی صرف ہمارا حق نہیں، ہمارا فیصلہ ہے اور اس فیصلے کی پشت پر بلوچ کا عظیم الشأن قربانیاں، لہو اور مضبوط ارادہ موجود ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بلوچ نیشنل موومنٹ اور اس کے فکری ہمراہوں نے دو ٹوک الفاظ میں دنیا کو بتا دیا ہے کہ بلوچستان نہ لاوارث خطہ ہے اور نہ ہی طاقتوروں کی ہوس کا چارہ۔ استحصالی منصوبے ہوں یا سامراجی سرمایہ کاری، بلوچ نوجوان ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔ ہماری سرزمین کا ایک ایک ذرہ اتنا ہی مقدس ہے جتنا ہمارے شہداء کا خون، اور اس پر قبضے کے ہر منصوبے کو ہم اپنی قومی قوت سے روکیں گے۔

بلوچستان پر توسیع پسندانہ نگاہ رکھنے والی ہر ریاست اور ہر کمپنی کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بلوچستان میں کوئی بھی سامراجی منصوبہ بلوچستان پر حملہ تصور ہوگا اور بلوچ قوم کسی بھی ریاست یا بین الاقوامی اجارہ کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ ایک نوآبادیاتی قوت سے مل کر ہماری سرزمین اور وسائل پر قبضہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ جلد یا بدیر دنیا کے نقشے پر آزاد بلوچ وطن کا پرچم ابھرے گا اور عالمی طاقتوں کو یہ حقیقت ماننا ہوگی کہ پاکستان کے قبضے کو مضبوط کرنا تاریخ کی سب سے بڑی حماقت ہے۔ بلوچستان کے قومی مقدر کے فیصلے اب اسلام آباد کے عسکری ایوانوں میں نہیں بلکہ مزاحمت کے مورچوں میں لکھے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی جدوجہد کا ہر قدم، ہر وار، ہر قربانی ہمیں منزلِ آزادی کے نزدیک تر کررہی ہے۔ میں اپنے اُن عظیم بلوچ فرزندوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے بلوچ سرزمین کی حفاظت کو محض قول سے نہیں بلکہ اپنے عمل اور قربانی سے ثابت کردیا ہے اور استعمار کے قلعوں کو یکے بعد دیگرے مسمار کر رہے ہیں۔

Share This Article