بلوچستان کے علاقے سبی میں ہرنائی پھاٹک کے قریب ایک بم دھماکے میں ایک شخص زخمی ہوگیا ۔جبکہ بولان میں فوجی قافلے پر حملے میں متعدد اہلکاروں کی ہلاکت و زخمی ہونے سمیت قلات میں پاکستانی فوج کی لشکر کشی اور عسکریت پسندوں کے مابین شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
سبی میں ہرنائی پھاٹک کے قریب ایک زور دار بم دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔
دھماکہ پل کے ساتھ کچرے کے مقام پر ہوا، تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پولیس اور سیکورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
مقامی حکام نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت معلوم کرنے کے لیے تمام ممکنہ پہلوں پر تفتیش جاری ہے اور علاقے میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب بولان سے اطلاعات ہیں کہ میں مرکزی شاہراہ پر سراج آباد کے قریب فوج کے تین گاڑیوں پر مسلح افراد نے گھات لگا کر حملہ کر دیا۔
حملے میں متعدد فوجی اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم حکام کی جانب سے جانی نقصانات کے حوالے سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں نے فوجی قافلے کو قریب سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں فوجی اہلکاروں کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
اب تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
علاوہ ازیں قلات کے علاقے زاوہ، کپوتو اور گردونواح میں فوج نے پیش قدمی تیز کر دی ہے، جہاں صبح تقریباً بیس گاڑیوں کو ٹینکوں کے ہمراہ نقل و حرکت دیکھی گئی۔
ذرائع کے مطابق فوج کی پیش قدمی کا مقصد علاقے میں جاری آپریشن کو وسعت دینا ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ صبح سویرے بھاری گاڑیوں کے قافلے کو زاوہ اور کپوتو کے درمیانی راستوں سے آگے بڑھتے دیکھا گیا۔
سرکاری سطح پر ابھی تک تفصیلات جاری نہیں کی گئی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ صبح سویرے بھاری گاڑیوں کے قافلے کو زاوہ اور کپوتو کے درمیان راستوں سے آگے بڑھتے دیکھا گیا، اسی دوران زاوہ میں فوج اور بلوچ آزادی کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئی ہیں، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہیں۔
جھڑپوں میں جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔