لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگارہ کے علاقے میں زور دار دھماکے سے عمارتیں جھول گئیں اور سیاہ اور سرمئی رنگ کا دھواں پھیل گیا جبکہ کم ازکم 78 افراد ہلاک اور متعدد خمی ہوگئے۔
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے مقامی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئیں تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دھماکے کے بعد لوگ ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں اور متعدد افراد سے خون بہہ رہا ہے۔
لبنان کے وزیر صحت حماد حسن کا کہنا تھا کہ دھماکے سے بڑی تعداد میں شہری زخمی ہوئے ہیں اور غیرمعمولی نقصان ہوا ہے۔
خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق لبنانی خبرایجنسی این این اے اور سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکا بندرگاہ کے علاقے میں ہوا جہاں کئی گوداموں میں دھماکا خیز مواد رکھا جاتا ہے۔
ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ کم ازکم 78 لاشوں کو ہسپتال لایا گیا تھا۔
تاہم فوری طور پر دھماکے کی وجہ واضح نہیں ہوسکی کہ آیا دھماکا ان گوداموں میں ہوا یا کسی اور جگہ ہوا۔
ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ‘میں آگ کا ایک گولا اور دھواں بیروت میں پھیلتے ہوئے دیکھا، لوگ چیخ رہے تھے اور خون بہہ رہا تھا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘عمارتوں کی بالکونیاں اڑ گئیں اور اونچی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ کر گلیوں میں بکھر گئے’۔
ایک اور عینی شاہد کا کہنا تھا کہ میں نے سرمئی رنگ کا دھواں آسمان کی طرف بلند ہوتے دیکھا جس کے بعد دھماکے کی آواز آئی اور آگ کے شعلے بلند ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ قریبی علاقوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور سڑکوں پر موجود کئی افراد زخمی ہوگئے اور شہر میں ہرطرف افراتفری ہے۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق بندرگاہ کے علاقے میں ہونے والے دھماکے کی آواز شہر کے بڑے حصے میں سنائی دی اور بعض اضلاع میں بجلی بھی غائب ہوگئی۔
مقامی میڈیا کے مطابق دھماکا بیروت کی بندرگارہ میں کسی واقعے کا نتیجہ ہوسکتاہے۔
شہریوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘عمارتیں جھول رہی ہیں، زور دار دھماکے نے بیروت کو گھیر لیا اور آواز میلوں دور تک سنائی دی’۔
میڈیا سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عمارتوں کی کھڑکیوں نقصان پہنچا ہے اور متعددعمارتیں سمیت دیگر اشیا بھی تباہ ہوگئی ہیں۔