بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئر مین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6007 ویں روز جاری رہا۔
لاپتہ افراد کے لواحقین سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، احتجاج میں شرکت کی، اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، احتجاج میں شریک شرکاء نے جبری گمشدگیوں کے مکمل سدباب اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
نصراللہ بلوچ نے احتجاجی کیمپ سے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کو شکایت موصول ہوئی ہے کہ 22 نومبر کی رات سیکورٹی فورسز نے حب چوکی کے علاقے دڑو میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر تیرتاج کے رہائشی نسرینہ ولد دلاور کو حراست میں لینے کےبعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، جو باعث تشویش ہے جسکی مذمت کرتے ہیں۔
نصراللہ بلوچ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نسرینہ بلوچ کی ماورائے قانون گرفتاری کے بعد جبری گمشدگی کا فوری طور پر نوٹس لیں، اگر بلوچ بچی پر کوئی الزام ہے تو ان کو منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے اور اسے ملکی قوانین کے تحت اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے، اور اگر بےقصور ہے تو ان کی رہائی کو یقینی بنانے میں اپنی کردار ادا کرکے خاندان کو ذہنی اذیت سے نجات دلائی جائے۔